فل اسٹاپ

تحریر: عابد حسین قریشی

فل اسٹاپ بھی انگریزی زبان کی کیا دلچسپ اختراع ہے۔ کہ اچھے خاصے flow کو روک دیتا ہے۔ مگر اسکا بڑا فائدہ یہ بھی ہے، کہ جہاں انگریزی میں بریک لگ جائے اور کوئی مناسب لفظ نہ سوجھ رہا ہو تو، بندے کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے فل سٹاپ سے بہتر سہارا نہیں ملتا۔ہماری طرح کے دیہاتی سکولوں سے پڑھے ہوئے جنہوں نے ABC چھٹی کلاس میں پڑھی اور سنی، انکے لیے تو انگریزی سکول کالج میں بھی مسئلہ تھا اور بعد میں بھی رہا۔ انگریزی کے بارے میں ویسے تو کہتے ہیں، کہ it is father less and motherless language, اور جسکا جس طرح جی کرے وہ لفظ کو pronounce کرے مگر بعض دوست تو انگریزی بولتے اور لکھتے ہوئے وہ حشر کرتے ہیں، کہ لگتا ہے mother Queen سے غلامی کا بدلہ لے رہے ہیں۔ وہ باضابطہ انگریزی زبان کا استحصال کرتے ہیں، اور اس بے زبان پر ترس بھی نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے پاس چونکہ میری طرح انگریزی vocabulary ذرا کم کم ہی ہوتی ہے، اس لیے وہ فل سٹاپ کو اپنے لیے باعث رحمت سمجھتے ہیں۔ مگر جب کسی کے پاس dictation دیتے ہوئے انگریزی کا کوئی مناسب لفظ نہیں ملتا، تو پھر اسکا چھت کو گھورنا کیا بھلا لگتا ہے۔ اور حسرت موہانی کی مشہور زمانہ غزل چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے، کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے۔ بار بار اٹھنا اسی جانب نگاہ شوق کا۔ اور تیرا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے۔ اچھی انگریزی آنا ایک نعمت ہے اور بری انگریزی انسان کے لیے نعمت غیر مترقبہ، کہ بندہ بہت سی مشکل assignments سے بچ جاتا ہے۔ ورنہ ہمارے مہربان اور قابل احترام بھائی سید ناصر علی شاہ کی طرح عمر کا خاصا حصہ ہمارے جیسے دوستوں کی انگریزی درست کرتے یا دوسروں کے لیے کچھ لکھتے لکھاتے گزر جاتی ہے۔ شاہ صاحب نے تو حجرہ شاہ مقیم کے عام سے سکول میں پڑھ کر جس طرح کی مشکل اور ثقیل انگریزی لکھی اس نے ہمارے جیسے بہت سے دیہاتی بیک گراؤنڈ والے لوگوں کا بھرم رکھ لیا۔ انگریزی بہت خوبصورت اور ثقیل ہو تو یقیناً اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ بندے کو فل سٹاپ پر رکنا نہیں پڑتا، ورنہ کئی لوگوں کو تو کوئی لیٹر یا حکم تحریر کرتے کرتے فل سٹاپ لگا کر اگلے روز تک بہتر انگریزی کی تلاش میں سر گرداں ہونا پڑتا ہے۔ انگریزی زبان کی یہ خوبی تو کمال کی ہے، کہ اچھی انگریزی بولتا کوئی اور رہا ہوتا ہے اور مزہ سننے والے لے رہے ہوتے ہیں۔بچوں کے والدین کا اپنے بچوں کو انگریزی زبان میں باتیں کرتے ہوئے والہانہ پن قابل دید ہوتا ہے۔ کسی زمانہ میں ہماری قومی سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو اپنی اعلٰی پایہ کی انگریزی سے بھی جانے جاتے تھے۔قائد اعظم تو عام جلسوں میں بھی انگریزی زبان ہی استعمال کرتے تھے اور لوگ سر دھنتے تھے کہ انہیں کہنے والے کی بات کی سچائی کا یقین ہوتا تھا۔ ویسے بھی دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔
بھٹو مرحوم کے تو جیالے بھی زیادہ تر معاشرے کے پسے اور پسماندہ طبقات سے تھے، مگر پھر بھی وہ جب ٹی وی پر بولتے تو سننے والے انگریزی سے نابلد ہوتے ہوئے بھی مست و شاداں ہوتے۔ پھر آہستہ آہستہ ہماری قومی سیاست سے انگریزی بھی روٹھ گئی۔ بھلے وقتوں میں کچہریوں اور عدالتوں کے باہر ٹائپ رائٹرز پر مختلف محکموں کے ریٹائرڈ لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے بڑی اعلٰی اور خوبصورت انگریزی بڑے سستے داموں فروخت کر دیا کرتے تھے۔ افسوس کہ کمپیوٹر آنے کے بعد ہم نے یہ سہولت بھی گنوا دی۔ نیٹ اور کمپیوٹر نے زندگی میں آسانیاں تو بلاشبہ بہت پیدا کیں ہیں، مگر انسان سے اسکی تخلیقی صلاحیتیں چھین لیں ہیں۔ اب پکی پکائی ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہو جاتی ہے۔ کون گرامر، ٹینسز اور سپیلنگز کے جھنجھٹ میں پڑے۔ ویسے اس سوشل میڈیا نے ہمارے بہت سے خوابیدہ اور undiscovered ٹیلنٹس کو بے نقاب یا expose کر دیا ہے۔ بہر حال ،بات مختصر ہو، الفاظ میں ربط ہو، دماغ میں کوئی واضح لائحہ عمل ہو، خیالات میں یکسوئی ہو، الفاظ کا مناسب ذخیرہ ہو،موضوع پر دسترس ہو، زبان ساتھ دے رہی ہو۔ تو پھر فل سٹاپ بے معنی ہو جاتا ہے۔



  تازہ ترین   
مشرق وسطیٰ تنازع پر ثالثی کیلئے آج اسلام آباد میں بڑی بیٹھک ہوگی
ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیدی: اسحاق ڈار
30 واں روز: ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی، ایف 16 طیارہ گرانے کا دعویٰ
3500 اضافی امریکی میرین مشرق وسطیٰ پہنچ گئے: سینیٹ کام کی تصدیق
امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ تحریک کا آغاز، لاکھوں افراد سڑکوں پر
پاکستان سے تمام مسائل افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں: افغان وزیر خارجہ
ایران کے راستے برآمدات: بینک گارنٹی اور کریڈٹ لیٹر کی شرط عارضی معطل
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر