اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان برآمدات بڑھانے میں انتہائی کمزور ملک ہے، ادائیگیوں پر پابندی، درآمدات کیلئے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں، ایکسچینج ریٹ پاکستان کی کم برآمدات کی بنیادی وجوہات ہیں،عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی برآمدات کی عالمی مارکیٹ میں پرفارمنس زیادہ بہتر نہیں ہے۔
پاکستان کو برآمدات و درآمدات کیلئے عالمی مارکیٹس میں مقابلے کے رجحان کی فضا کو دیکھنا چاہیے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے مقامی صنعت کی پیداوار میں مزید ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔ مقامی صنعتوں کی پیداوار بڑھانے اور ویلیو ایڈیشن کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنگلا دیش، بھارت، ویتنام، تھائی لینڈ و دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی برآمدات انتہائی کم ہیں۔
پاکستان کو ٹیکسٹائل، ایگریکلچر پراڈکٹس کے علاوہ دیگر شعبوں کی برآمدات بڑھانا ہوں گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ان سے ٹیکس وصول کرنے کیلئے فیڈرل بورڈآف ریونیو (ایف بی آر) نے ”تاجر دوست اسکیم“ متعارف کروائی تھی جس کا دائرہ 6 کے بجائے 42 شہروں تک بڑھا دیاگیاتھا۔
42 شہروں کے چھوٹے دوکانداروں سے ماہانہ 100 روپے سے 20 ہزار تک ٹیکس وصول جائے گا۔ایف بی آر نے اس حوالے سے رولز کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جس کے مطابق سکیم میں ایبٹ آباد، اٹک، بہاولنگر، بہاولپور، چکوال، ڈیرہ اسماعیل خان، فیصل آباد، گھوٹکی، گجرات، گوادر، حافظ آباد، ہری پور، حیدرآباد، اسلام آباد، جھنگ، جہلم، قصور، خوشاب، لاہور، لاڑکانہ، لسبیلہ، لودھراں، منڈی بہاوالدین، مانسہرہ، مردان، میرپور خاص، ملتان، ننکانہ، نارووال، پشاور، کوئٹہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، ساہیوال، سرگودھا، شیخوپورہ، سیالکوٹ، سکھر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو بھی شامل کیاگیاتھا۔
رجسٹرڈ تاجروں کو ماہانہ 100 سے ایک ہزار روپے تک ایڈوانس ٹیکس دینا ہوگا جس کا تعین دکانوں کی فیئر مارکیٹ ویلیو کے حساب سے ہوگا جبکہ دکانوں کی فیئر مارکیٹ ویلیو کا تعین ایف بی آر خود کرے گا۔



