جنیوا (نیشنل ٹائمز) عالمی عدالت انصاف نے کو کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جبکہ غزہ کی پٹی قانونی طور پر فلسطین کا حصہ ہے۔ ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی قانونی حیثیت سے متعلق فیصلہ سنا دیا گیا۔ عالمی عدالت انصاف کے مطابق فلسطینی علاقوں میں موجود قدرتی وسائل کی تلاش کی اسرائیلی پالیسی بھی عالمی قوانین کے خلاف اقدام ہے۔عالمی عدالت انصاف کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے، غزہ اور مشرق بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ ہے، فلسطین کے یہ مقبوضہ علاقے ایک ہی خطے کا حصہ ہیں۔ عالمی عدالت نے کہا کہ یہ اسرائیل اور فلسطین کا دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ عالمی عدالت نے مزید کہا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیاں ان علاقوں کے بڑے حصے کو ضم کرنے کے مترادف ہے۔عدالت نے کہا کہ ان کے پاس اپنی رائے دینے کیلئے مناسب ثبوت موجود ہیں ،عدالت کی رائے کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔آئی سی جے نے فیصلے میں کہا کہ سال 2005 میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوا، غزہ کی پٹی قانونی طور پر فلسطین کا حصہ ہے۔
غزہ کی پٹی قانونی طور پر فلسطین کا حصہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، عالمی عدالت انصاف کا بڑا فیصلہ



