ڈھاکہ (نیشنل ٹائمز) بنگلہ دیش میں جاری طلبہ کے احتجاج میں اموات کی تعداد 75 ہو گئی ، پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں میں ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق زخمیوں میں 104 پولیس اہلکار اور 30 صحافی بھی شامل ہیں۔ طلبہ نے ایک جیل پر دھاوا بول کر سیکڑوں قیدیوں کو رہا کر دیا اور جیل کو نذرِ آتش کر دیا۔ بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے باعث صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے، تمام سکول اور یونیورسٹیاں بند ہیں۔ ملک میں ٹرین سروس، نیوز چینلز، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ امن و امان کے قیام کے لیے حکومت نے فوج بھی طلب کرلی ہے۔خیال رہے کہ بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں کا 56 فیصد حصہ کوٹے میں چلا جاتا ہے جس میں سے 30 فیصد سرکاری نوکریاں 1971کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں، 10 فیصد خواتین اور 10فیصد مخصوص اضلاع کے رہائشیوں کے لئے مختص ہے۔طلبہ کا مطالبہ ہے کہ سرکاری نوکریاں میرٹ پر دی جائیں اور صرف 6 فیصد کوٹہ جو اقلیتوں اور معذور افراد کے لیے مختص ہے اسے برقرار رکھا جائے۔
بنگلہ دیش میں احتجاج جاری، اموات کی تعداد 75 ہو گئی



