اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) مودی حکومت اور بالخصوص بھارتی فوج کا اپنے شہریوں پر ظلم و زیادتیوں کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا،بھارتی فوج آئے روز نام نہاد آپریشنز کے نام پر اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے،4دسمبر 2021کو ناگالینڈ میں بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کر کے 13نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ،پولیس نے تمام بھارتی فوجیوں کے خلاف ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجود مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا،13افراد کے خاندان کو بھارتی پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے اور مقدمہ چلانے کے لئے ایک سال کا انتظار کرنا پڑا مگر اس پر عمل درآمد 3سال بعد بھی نہ ہو سکا، جولائی 2022میں بھارتی فوجیوں کی بیویوں کی جانب سے دائر درخواستوں پر ان کیخلاف کارروائی کو روک دیا گیا تھا، بھارتی فوجیوں کی بیویوں نے سپریم کورٹ میں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے،فروری 2023میں مرکزی حکومت کی جانب سے بھارتی اہلکاروں کی تحقیقات کئے بغیر ملزم فوجیوں پر مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا گیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے واقعے کے حقائق چھپاتے ہوئے ہلاک شہریوں پر ہی الزام دھر دیا کہ وہ اسلحہ سے لیس تھے، علاقے کی عوام نے بھارتی فوجیوں کے جھوٹے دعوے کو مسترد کر دیا اور فوجیوں نے اس جھڑپ کے نتیجے میں مزید 7شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا،طاقت کے نشے میں دھت بھارتی فوجی اپنے حقوق کیلئے اٹھنے والی آواز کو گولی سے خاموش کر دیتے ہیں۔حال ہی میں 15جولائی کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ناگالینڈ حکومت کی طرف سے داخل کی گئی عرضی پر نوٹس جاری کیا،ناگالینڈ حکومت کی جانب سے اس عرضی میں فوجی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری سے انکار کو چیلنج کیا گیا ہے، ناگالینڈ کی مظلوم عوام آج بھی انصاف کی امید میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر ہیں جس کی اگلی سماعت ستمبر میں ہوگی۔بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر اور ناگالینڈ جیسے علاقے میں بربریت پر ان سے سوال پوچھنے والا کوئی نہیں،مودی سرکار نے اپنے مظلوم عوام کی داد رسی نہیں کی بلکہ انھیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔
مودی سرکار اور بھارتی فوج کے مقامی شہریوں پر مظالم بڑھنے لگے



