اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر برائے تونائی اویس لغاری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور میں انکشاف کیا ہے کہ بجلی صارف 8 روپے فی یونٹ ٹیکس دیتا ہے، ایف بی آر نے پاور سیکٹر کو ٹیکس کلیکشن ایجنٹ بنا دیا ہے، پاور سیکٹر کی ہر چیز ڈالر سے جڑی ہوئی ہے، روپے کی بے قدری ادائیگیوں کو اوپر لے جاتی ہے، بجلی کی طلب میں ساڑھے 8 فیصد کمی ہو چکی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری اور سیکریٹری پاور راشد محمود نے شرکت کی۔سیکریٹری پاور راشد محمود نے کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ گرمیوں میں بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ تک بھی چلی جاتی ہے، سردیوں میں طلب 8 ہزار میگاواٹ تک بھی گر جاتی ہے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاور بلیک آئوٹ کی وضاحت کریں۔ سیکریٹری پاور راشد محمود کا کہنا تھا کہ جب کسی خرابی کے باعث پورا پاور سسٹم بند ہو جائے تو بلیک آئوٹ کہلاتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے دوبارہ سوال اٹھایا کہ یہ بتایا جائے کہ ساہیوال میں درآمدی کوئلے کو لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ جواب میں وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ جب ساہیوال کول پاور لگایا گیا اس وقت تھر سے کوئلہ دستیاب نہ تھا، جب ساہیوال کول پاور لگا اس وقت کیپیسٹی پیمنٹ زیادہ نہ تھی، روپے کی بے قدری سے کیپیسٹی پیمنٹس بڑھیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی ترسیل کے مسائل سے سستی بجلی لوڈ سینٹرز تک لانے کے مسائل ہیں، ترسیلی مسائل کے باعث سستی کی بجائے مہنگی بجلی استعمال کرنی پڑتی ہے۔ چیئرمین پاور کمیٹی محسن عزیز نے وزیر تونائی سے دریافت کیا کہ ملک کے مختلف شہروں سے لوڈشیڈنگ کی بہت شکایات آ رہی ہیں، اویس لغاری نے بتایا کہ پاور سیکٹر میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی ) کا کردار بہت کمزور رہا، این ٹی ڈی سی کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ بجلی قیمت نے غریب آدمی کی زندگی مشکل کر دی، غریب بجلی استعمال کرے تب بھی مرتا ہے نہ کرے تب بھی، مہنگی بجلی سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں،مہنگی بجلی سے مڈل کلاس بھی تنگ ہے، خطے میں بجلی پاکستان میں سب سے مہنگی ہے، انہوں نے کہا کہ اجلاس کو آئی پی پیز کی تفصیلات بتائی جائیں، کتنی آئی پی پیز اب تک کتنا منافع لے چکی ہیں؟ ۔وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ بجلی ترسیل کے مسائل کے باعث سستی بجلی لوڈ سینٹرز تک لانے کے مسائل ہیں، ترسیلی مسائل کے باعث سستی کی بجائے مہنگی بجلی استعمال کرنا پڑتی ہے، این ٹی ڈی سی کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔ کمیٹی اجلاس کے دوران شبلی فراز نے کہا کہ پاور سیکٹر کے حالات پر تحفظات ہیں، ساہیوال کول پاور کوئی 1947 میں تو نہیں لگا، پاور سیکٹر میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے، کسی کی خواہش پر پاور پلانٹ نہیں لگنا چاہیے، اب کراچی سے ٹرین پر کوئلہ ساہیوال لایا جاتا ہے۔اویس لغاری نے اس پر کہا کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ سے بجلی کے فی یونٹ کی کیپیسٹی پیمنٹس ساڑھے 3 روپے سے ساڑھے 12 روپے فی یونٹ پر گئی ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ بات یہ ہے کہ ہم عوام کو جواب دہ ہیں،جب ہماری پلاننگ میں نقص ہو گا سرمایہ کار اس کا فائدہ اٹھائے گا، نئے منصوبے دستخط کرنے سے قبل پہلے والے بجلی کے منصوبوں کو سنبھالیں۔چیئرمین کمیٹی نے ایک بار پھر دریافت کیا کہ ہمارے پاس ہوا ہے، پانی ہے، سورج ہے، پھر بھی بجلی مہنگی کیوں ہے؟ اس پر اویس لغاری نے بتایا کہ پاور سیکٹر کی ہر چیز ڈالر سے جڑی ہوئی ہے، روپے کی بے قدری ادائیگیوں کو اوپر لے جاتی ہے، سارا بوجھ پاور سیکٹر پر ہے، صارف 8 روپے فی یونٹ ٹیکس دیتا ہے، ایف بی آر نے پاور سیکٹر کو ٹیکس کلیکشن ایجنٹ بنا دیا ہے، بجلی کی طلب میں ساڑھے 8 فیصد کمی ہو چکی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بجلی کا اجلاس ،بجلی صارفین سے 8 روپے فی یونٹ ٹیکس وصولی کا انکشاف



