اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)گلوبل وارمنگ مسلسل ہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں اضافہ کررہی ہے۔رواں سال گلوبل وارمنگ سےہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں جتنی تیزی آئی ہے، یہ سائنسدانوں کی سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔پچھلی ڈیڑھ دہائی سے سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ برف کی تشکیل کتنی ہے اور موسمی برف کے پگھلنے سے خارج ہونے والے مادے کی بھی پیمائش کی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے ہوا اور مٹی کے درجہ حرارت کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔رواں سال برف کے پگھلاؤ سےخارج ہونے والے مادے کی پیمائش کرنے والا اسٹیشن ریکارڈ توڑ برف پگھلنے کی وجہ سے بہہ گیا۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک گلیشیالوجسٹ محمد فاروق اعظم نے بتایا کہ ’ہم نے یہ اسٹیشن جون میں نصب کیا تھا اور اگست میں ہمیں اس کی باقیات بھی نہیں مل سکیں‘۔اُنہوں نے بتایا کہ ’جب مارچ اور اپریل میں درجہ حرارت نے 100 سالہ ریکارڈ توڑا تو ہم نے موسم گرما کے آغاز میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز کی برف پگھلنا شروع ہوگئی‘۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ’ہماری ٹیم گزشتہ ہفتے گلیشیئر میں موجود تھی جہاں ہم نے ہمالیہ میں ریکارڈ توڑ برف کو پگھلتے ہوئے دیکھا ہے‘۔اس موسمِ گرما میں پڑنے والی ریکارڈ توڑ گرمی نے ہمارے پورے سیارے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، جس سے نا صرف یورپ کے ایلپس کو بلکہ مشہور ہمالیہ رینج میں بھی ریکارڈ توڑ برف پگھل رہی ہے، جوکہ جنوبی اور قطبی سمت کے باہر منجمد میٹھے پانی کے سب سے بڑے ذخیرے کو پناہ دیتے ہیں۔یہ صورتحال ایک ایسے نازک نظام کو غیر مستحکم کررہی ہے جس نے زمین کے ماحول اور ہزار سال تک آبی وسائل کو منظم کرنے میں مدد کی ہے۔ہمالیہ رینج میں ریکارڈ توڑ برف کے پگھلاؤ سےخطے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، جہاں مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے 30 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہیں، ملک بھر میں جون سے لے کر اب تک 1 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ہمالیہ میں برف کا ریکارڈ توڑ پگھلاؤ: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہاسلام آباد(نیشنل ٹائمز)گلوبل وارمنگ مسلسل ہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں اضافہ کررہی ہے۔رواں سال گلوبل وارمنگ سےہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں جتنی تیزی آئی ہے، یہ سائنسدانوں کی سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔پچھلی ڈیڑھ دہائی سے سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ برف کی تشکیل کتنی ہے اور موسمی برف کے پگھلنے سے خارج ہونے والے مادے کی بھی پیمائش کی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے ہوا اور مٹی کے درجہ حرارت کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔رواں سال برف کے پگھلاؤ سےخارج ہونے والے مادے کی پیمائش کرنے والا اسٹیشن ریکارڈ توڑ برف پگھلنے کی وجہ سے بہہ گیا۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک گلیشیالوجسٹ محمد فاروق اعظم نے بتایا کہ ’ہم نے یہ اسٹیشن جون میں نصب کیا تھا اور اگست میں ہمیں اس کی باقیات بھی نہیں مل سکیں‘۔اُنہوں نے بتایا کہ ’جب مارچ اور اپریل میں درجہ حرارت نے 100 سالہ ریکارڈ توڑا تو ہم نے موسم گرما کے آغاز میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا کیا، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز کی برف پگھلنا شروع ہوگئی‘۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ’ہماری ٹیم گزشتہ ہفتے گلیشیئر میں موجود تھی جہاں ہم نے ہمالیہ میں ریکارڈ توڑ برف کو پگھلتے ہوئے دیکھا ہے‘۔اس موسمِ گرما میں پڑنے والی ریکارڈ توڑ گرمی نے ہمارے پورے سیارے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، جس سے نا صرف یورپ کے ایلپس کو بلکہ مشہور ہمالیہ رینج میں بھی ریکارڈ توڑ برف پگھل رہی ہے، جوکہ جنوبی اور قطبی سمت کے باہر منجمد میٹھے پانی کے سب سے بڑے ذخیرے کو پناہ دیتے ہیں۔یہ صورتحال ایک ایسے نازک نظام کو غیر مستحکم کررہی ہے جس نے زمین کے ماحول اور ہزار سال تک آبی وسائل کو منظم کرنے میں مدد کی ہے۔ہمالیہ رینج میں ریکارڈ توڑ برف کے پگھلاؤ سےخطے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، جہاں مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے 30 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہیں، ملک بھر میں جون سے لے کر اب تک 1 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔
ہمالیہ میں برف کا ریکارڈ توڑ پگھلاؤ: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہ



