اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ملیریا اور ڈینگی ایک مہلک بیماری ہے جو انسانوں میں مادہ مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ مون سون کی بارشوں کے بعد مچھروں کی افزائش کے باعث ملیریا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں یہ بیماریاں عام ہے تو اس سے بچاؤ کے لیے درج ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے صبح اور شام کے اوقات میں بند رکھیں اور ممکن ہو تو ان پر جالی لگائیں۔مچھر دانی کا استعمال کریں اور اس پر مچھرمار اسپرے بھی کریں، اس بات کا یقین کرلیں کہ مچھر دانی کہیں سے پھٹی ہوئی نہ ہو اور اس کے تمام سرے بستر میں صحیح طرح اندر گھسے ہوئے ہوں۔ہو سکے تو ایئر کنڈیشنر یا پھر پنکھے کا استعمال کریں تاکہ مچھر بھاگ جائیں۔ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں جھاڑیاں اور پانی جمع ہو کیونکہ وہاں مچھر منڈلاتے اور انڈے دیتے ہیں۔گھر میں اور اس کے اِردگِرد ان جگہوں کو ختم کریں جہاں مچھر انڈے دے سکتے ہیں۔جسم کے کُھلے ہوئے اعضا پر ناریل کا تیل لگائیں یہ صبح سے شام تک ایک اینٹی بائیوٹک تہہ کی طرح کام کرتا ہے۔اگر کسی کو ڈینگی ہوجائے تو سبز الائچی کے بیج منہ میں دونوں طرف رکھیں، خیال رکھیں، انہیں چبانا نہیں ہے۔ اسے خالی منہ میں رکھنے سے خون کے ذرات نارمل ہو جاتے ہیں اور پلیٹ لیٹس میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔
ملیریا اور ڈینگی سے بچاؤ کیلئے کونسی تدابیر اختیار کریں؟



