اسلام آباد:آخرکا ر عمران خان کو قانو ن کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑےاور گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالت کا دروازنہ کھٹکٹایا۔کچھ روز قبل عمران خان انہی عدالتوں اور ججز کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہے تھے لیکن آج گرفتاری کا وقت آیا تو انہیں عدالتوں کو ججز نے عمران خان کو گرفتار ہونے سے بچایا اور ریلیف فراہم کیا۔ عمران خان نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ وہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے لیکن پھر انہیں اپنی ضمانت کیلئے اپنی انا کی قربانی دینا پڑی۔عمران خان عدالت کچھ یوں پہنچے کہ ساتھ پورا لائو لشکر تھا۔ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت حاصل کرنے جارہے ہیں بلکہ یوں لگا جیسے ایک گروہ کسی جگہ حملہ آور ہونے جارہا ہے۔عدالت میں دھکم پیل اور شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔واک تھرو گیٹ بھی توڑ دیا گیا۔اس موقع پر ایک صحافی نے عمران خان سے چند سوالا ت کئے ۔
نیوٹلز سے روابط۔؟
گرفتاری کے پیچھے کون۔؟
امریکی سفیر سے رابطہ۔؟
زرداری/ ملک ریاض رابطہ۔؟
کھیل کامرکزی کردار۔؟
لیکن عمران خان نے صرف ایک ہی جواب دیا کہ ’’بہت خطرناک ہوں میں‘‘۔
صحافی کے سوال پر عمران خان کا جواب کیا ریاست کیخلاف چیلنج سمجھا جائے ؟ عمران خان میں اتنا تکبر آخر کیوں ہے؟جو عمران خان کہتے ہیں قانون کی حکمرانی ہو نی چاہئے کیا وہی عمران خان خود قانون کو اپنے پیروں کی جوتی سمجھتے ہیں؟بلاشبہ عمران خان اس وقت کے مقبول ترین لیڈر ہیں لیکن انہیں اپنے قو ل و فعل میں تضاد نہیں کرنا چاہئے ۔ اگر وہ واقعی قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں تو انہیں خود بھی انہیں قوانین کی پاسداری کرنا ہو گی اور اگر فیصلہ حق میں آئے تو عدالت کی تعریفیں جبکہ فیصلہ خلاف آنے پر ججز کی توہین کرنا کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ آج جب انہیں گرفتاری کا خوف محسوس ہوا تو انہیں اسی عدالت کی ضرور ت پڑ گئی جس کی توہین کرتے پھر رہے تھے ورنہ آج عمران خان بنی گالہ میں سکون کی نیند نہیں بلکہ حوالات میں ہوتے۔
’ بہت خطرناک ہوںمیں‘عمران خان کا ریاست کو چیلنج؟کیا وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟



