اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)سپریم کورٹ نے شرمیلا فاروقی کی سزا اور نااہلی ختم کرنے کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) اپیل پر کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شرمیلا فاروقی کی سزا اور نااہلی ختم کرنے کے خلاف نیب اپیل پر سماعت کی۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شرمیلا فاروقی کو 2001 میں پانچ سال قید اور 21 سال نااہلی کی سزا ہوئی، نیب نے 2016 میں الیکشن کمیشن کو شرمیلا فاروقی کے حوالے سے خط لکھا، الیکشن کمیشن کو بتایا کہ شرمیلا عوامی عہدے کیلئے اہل نہیں۔نیب کا کہنا تھاکہ شرمیلا فاروقی نے نیب کا خط سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، سندھ ہائیکورٹ نے خط کے ساتھ شرمیلا فاروقی کی سزا بھی کالعدم قرار دےدی۔اس دوران چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ سزا کے خلاف شرمیلا نے اپیل ہی نہیں کی تھی تو ختم کیسے ہوسکتی؟ شرمیلا فاروقی کے وکیل نے کہاکہ آمریت کے دوران سزا کے خلاف اپیل کرنا بے سود تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف کی طیارہ سازش کیس سزا سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دی تھی، نوازشریف نے مؤقف اپنایا تھا کہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے نظرثانی بروقت دائر نہیں کر سکے تھے، سپریم کورٹ نے وطن واپسی پر پابندی کا نوازشریف کا مؤقف تسلیم کیا تھا۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس میں کہا کہ شرمیلا فاروقی کی سزا عدالت اپنی مرضی سے کیسے کالعدم کر سکتی ہے، زیادہ سے زیادہ یہ رعایت ہوسکتی ہے، نااہلی کی مدت سزا کے ساتھ شروع ہوجائے۔عدالت نے مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
سزا کیخلاف شرمیلا فاروقی نے اپیل ہی نہیں کی توختم کیسے ہوسکتی ہے؟ سپریم کورٹ



