اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)کپتان کے ہاتھ سے الیکشن بھی نکل گیا، پارٹی چئیرمین شپ بھی خطرے میںاسلام آباد: عمران خان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہونے لگا، جلسوں اور ریلیوں میں کھلم کھلا اداروں کی تضحیک ، ریاستی اداروں کے سربراہان کو دھمکی اور معزز خاتون جج کی توہین کرنے پر عمران خان کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کروایا گیا ۔ جبکہ خاتون جج کی توہین کرنے پر عمران خان کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے ازخود توہین عدالت کا نوٹس لیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکانے کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے کیس کی سماعت تین رکنی لارجر بینچ نے کی۔دوسری جانب ماہر قانون و جسٹس(ر)شائق عثمانی نے کہا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی میں عمران خان کو سزا ہوجاتی ہے تو 5 سال الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔ شائق عثمانی نے کہاکہ صورتحال عام توہین عدالت کیس سے مختلف ہے کیونکہ عمران خان نے ایک جج کا نام لے کر کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہاکہ آپ کے خلاف فیصلہ ہو تو آپ اس پر تنقید کرسکتے ہیں، جج پر نہیں، جج کے فیصلے پر تنقید کرسکتے ہیں جج پر تنقید نہیں کرسکتے، غلطی میں کیا، جوش میں کیا جو بھی کیا غلط کام کیا۔ماہرقانون نے کہاکہ عمران خان کو اس کیس میں معافی ملنا بہت مشکل ہے، اگر عدالت سمجھتی ہے کہ توہین عدالت کی ہے تو 6ماہ کی سزا ہوسکتی ہے، اگر عمران خان کو سزا ہوجاتی ہے تو پانچ سال الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آج انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کی جس کے بعد انہوں نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔تاہم وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کریں گے کہ عمران خان کی ضمانت کی درخواست خارج ہو جائے اور انہیں اسی وقت عدالت سے گرفتار کرلیا جائے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کو گرفتار کرنا اور بھی آسان ہوگیا ہے، ان کے خلاف درج کیے گئے دہشتگردی کے معاملے میں مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں، ان کے بیانات اور الفاظ کی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے اور عمران خان خود گواہ اور ثبوت ہیں۔جبکہ ایک اور خبر کے مطابق الیکشن کمیشن نےعمران خان کے پارٹی چیئرمین ہونےپر اعتراض اٹھاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو نوٹس جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نےعمران خان کے پارٹی چیئرمین ہونےپر اعتراض اٹھا دیا اور پاکستان تحریک انصاف کو نوٹس جاری کردیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اعتراض میں کہا ہے کہ ترمیم شدہ آئین کے تحت الیکشن نہیں ہوا۔الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات پر 7 اعتراض لگائے اور نیشنل کونسل سے دو تہائی اکثریت سے ترمیم کرکے انتخابات کرانے کا حکم دیا۔
عمران خان توہین عدالت میں جیل جانے کی تیاری کر لیں



