اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)شہباز گل کے ڈرامے میں گزشتہ رات عجیب کو غریب موڑ آیا جب عدالتی فیصلے کے مطابق اسلام آباد پولیس شہباز گل کو لینےاڈیالہ جیل پہنچی تو پہلے سے موجودپنجاب پولیس نے مزاحمت شروع کر دی۔
یوں لگتا تھا پنجاب پولیس کسی ایک ملک کی فوج ہے اور اسلام آباد پولیس دوسرے ملک کی فوج اور دونوں کے درمیا ن وجہ تنازعہ ایک غداری کا مجرم ہے۔یہی نہیں بلکہ وفاق او ر پنجاب حکومت میں بھی کشمکش انتہا پر تھی ۔بالآخر وزارت داخلہ کو ایف سی اور رینجرز کی مدد لینی پڑی تاکہ اس شہباز گل کو وفاقی پولیس کے حوالے کیا جائےاور یوں اس کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔ رینجرز کا نام سنتے ہی پنجاب پولیس نے گھٹنے ٹیک دیے اور شہباز گل کو اسلا م آبادپولیس کے حوالے کر دیا گیا۔شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے سٹریچر پر ایمبولینس میں اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال منتقل کیا اس موقع پر انہیں آکسیجن بھی لگی ہوئی تھی اور بڑی بڑی سانسیں بھی لے رہے تھے۔ حالانکہ اطلاعات کے مطابق شہباز گل صبح صحیح سلامت اٹھے، نہائے دھوئے ، ناشتہ کیا ، اخبارات پڑھے، ٹی وی دیکھا ۔ پی ٹی آئی رہنمائو ں سے ملاقاتیں کیں اور خوش گپیوں میں مصروف رہے لیکن جونہی سیشن کورٹ کا فیصلہ آیا انہیں محسوس ہوا ان کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔سانس بھی رکنا شروع ہو گئی ۔
مبینہ طور پرعمران خان نے بھی سر توڑکرششیں کیں کہ شہباز گل کو اسلام آباد نہ لے جایاجائے ۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو شہباز گل کو ڈی ایچ کیو راولپنڈی منتقل کرنے کا بھی کہا ۔ اب سوچا جائے تو عمران خان انہیں اسلام آباد پولیس کے حوالے کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ وجہ یہ ہے کہ شہباز گل کمزوراعصاب کے مالک ہیں اور حوالات دیکھتے ہی خوفزدہ ہو کر انہوں نے سوشل میڈیا پر منفی مہم چلانے سے متعلق کئی انکشافات کر دیئے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں اس کی تردید ضرور کی لیکن وہ پولیس کے سامنے اعتراف کر چکے تھے۔ ن لیگی رہنما جاوید لطیف کہتے ہیں کہ شہباز گل وہ طوطا ہے جس میں کئی لوگوں کی جان ہے۔ عمران خان کو خدشہ ہے اب اگر شہباز گل پر دبائو ڈالا گیا تو انہوں نے عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے سارے بھانڈے پھوڑ دینے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان انہیں کسی صورت اسلام آباد پولیس کے حوالے نہیں کرناچاہتے تھے۔کل ہی پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے بھی اعتراف کیا تھا کہ شہباز گل نے پاک فوج سے متعلق جو کہا غلط کہا اور اس کی انہیں سزا ملنی چاہئے ۔ شہباز گل کا کیس پی ٹی آئی کیلئے دردسر بنتا جارہا ہے۔ عمران خان کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کریں۔ اگر شہباز گل سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی تو شہباز گل ان کے راز اگل دیں گے اور اگر شہباز گل کا ساتھ دیا تو غداری میں ان کا بھی نام آجائیگا۔دوسری جانب آج سلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان پھر اسٹیبلشمنٹ کے پائوں پڑ گئے ۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ نیوٹرلز سے کہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیوٹرل کو پیغام ہے کہ کیا آپ کو ملک کی فکر ہے، ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو معیشت کیسے ٹھیک ہوگی، سیاسی استحکام صرف صاف اور شفاف انتخابات سے آئےگا، نیوٹرل سے آخر میں کہتا ہوں ابھی بھی وقت ہے اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں، بند کمروں میں فیصلے اچھے نہیں ہوتے۔



