قطب مینار: بھارت کا سب سے اونچا مینار عدالتی فیصلے کا منتظر

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 240 فٹ بلند قطب مینار شہر کی سب سے مشہور اور شاندار یادگاروں میں سے ایک ہے۔ عالمی ثقافتی ورثوں میں سے ایک قطب مینار کو ممکنہ طور پر افغان میناروں سے متاثر ہو کر کامیابی کی علامت سمجھے جانے والے مینار کے طور پر دہلی کے پہلے سلطان قطب الدین ایبک نے 1192 میں ہندو حکمرانوں کو شکست دینے کے بعد بنایا تھا۔تاہم اب ایک بھارتی عدالت آئندہ چند ہفتوں میں قطب مینار کے حوالے سے کھڑے ہونے والے تنازعہ کا فیصلہ کرے گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مینار کی تعمیر کے دوران قطب مینار کمپلیکس کے احاطے میں موجود27 ہندو اور بدھ مت جین کے مندروں کو منہدم کر دیا گیا تھا اور اس کا ملبہ وہیں دہلی کی پہلی مسجد کی تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق تقریباً 800 سال سے زیادہ کے بعد بھارت میں عدالتیں احاطے میں موجود 27 مندروں کی بحالی اور وہاں عبادت کرنے کی اجازت کے لیے پیش کی گئی درخواستوں سے جونجھ رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں بھارت کی ایک سول عدالت نے ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت پر کئی خاندانوں نے حکومت کی ہے اور ماضی میں کی گئی غلطیاں ہمارے حال اور مستقبل کے امن کو خراب کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق قطب مینار کے احاطے میں ان منہدم کیے گئے مندروں میں سے ایک کے چبوترے کو مسجد کے لیے بڑھایا گیا تھا۔قطب مینار کمپلیکس میں واقع ایک اور تاریخی مسجد کو شہید کرنے کی سازش تیارتاہم اب درخواست گزار ہری شنکر جین نے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا کہ جب مسجد سے بہت پہلے ایک مندر موجود تھا تو اسے بحال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟آثار قدیمہ کے ماہرین احاطے کی حیثیت کے بارے میں واضح ہیں کہ وفاقی قانون کے تحت ایک محفوظ یادگار ہے جبکہ ان کے مطابق ایسے ہی تنازعات، جنہیں ہندو گروپوں کی حمایت حاصل ہے، واراناسی اور ماتھورا کے شہروں میں مسمار کی گئی ہندو عبادت گاہوں پر تعمیر کی گئی مساجد پر جنم لے رہے ہیں۔مورخین کا کہنا ہے کہ 12ویں صدی کے اواخر سے مسلم بادشاہوں اور کم از کم 7ویں صدی سے ہندو بادشاہوں نے دشمن بادشاہوں کی سرپرستی والی عبادگاہوں کو لوٹا، تباہ کیا یا دوبارہ تعمیر کروایا۔ ہر حکمران نے سب سے بڑی مذہبی علامتوں کو تباہ کر کے اپنی سیاسی طاقت پر مہر لگانے کی کوشش کی ہے۔ تاریخ دان رانا صفوی کے مطابق قطب مینار کیوں بنایا گیا؟ اس کی ایک وجہ احاطے میں مسجد کا مینار بنانا جہاں سے مؤذن مومنین کو نماز کے لیے بلائے جبکہ ایک اور ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اسے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے فوجی واچ ٹاور کے طور پر استعمال کرنا تھا۔واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں، ایک ہندو دائیں بازو کے گروپ کے ارکان کو احاطے کے باہر مظاہرہ اور عبادت کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے درخواست گزار ہری شنکر نے عدالت کو بتایا کہ منہدم شدہ مندر تقدس اور اپنی خصوصیت سے محروم نہیں ہوتے جبکہ انہوں نے کہا کہ مجھے قطب مینار کے احاطے میں عبادت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔اطلاعات کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں فیصلہ ہوجائے گا کہ قطب مینار کے ارد گرد کے احاطے میں صدیوں پہلے منہدم کیے گئے مندروں کو بحال کیا جانا چاہیے یا نہیں۔



  تازہ ترین   
اسحاق ڈار کی انڈونیشی، مصری اور شامی وفود سے ملاقاتیں، غزہ پر تبادلہ خیال
ترلائی امام بارگاہ حملہ: جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء میں امدادی چیک تقسیم
کابل دہشتگردی کیخلاف غیرسنجیدہ، فضائی کارروائی کرسکتے ہیں: خواجہ آصف
وزیراعظم غزہ امن بورڈ اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا پہنچ گئے
کراچی: رینجرز کی کارروائی، فتنہ الخوارج کا مطلوب دہشتگرد گرفتار
صدر مملکت اور وزیراعظم کی قوم کو رمضان المبارک کی مبارکباد
رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا
سہیل آفریدی کا عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر