اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)روسی پارلیمنٹ ڈوما کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ مغرب میں جائیداد بنانے والے روسی شہریوں نے سنگین ترین غلطی کی۔ایک بیان میں روسی پارلیمنٹ ڈوما کے اسپیکر نے کہا ہے کہ مغرب میں نجی جائیداد کا مالک ہونے کا افسانہ اصل روپ میں سامنے آ گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپ میں نجی پراپرٹی کے قانون کی اصل حقیقت بے نقاب ہو گئی، امریکا اور یورپ میں روسی شہریوں کی جائیداد ضبط ہونا واضح اقدام ہے۔’’آزادی و حقوق کے خوبصورت تاثر کے غبارے سے ہوا نکل گئی‘‘سپیکر ڈوما نے مزید کہا ہے کہ شہریت کی بنیاد پر امریکا اور یورپ میں بینک اکاؤنٹ منجمد کیے گئے، آزادی اور حقوق کے خوبصورت تاثر کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر پیوٹن نے پابندیاں لگنے سے 20 برس پہلے قوم کو خبردار کر دیا تھا کہ مغرب میں جائیداد نہ بنائیں۔واضح رہے کہ روس کے پڑوسی ملک یوکرین پر حملے کے بعد روسی حکمرانوں اور شہریوں کو امریکا، برطانیہ اور یورپ میں مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔برطانیہ کی جانب سے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد خود سر حکومتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی منی لانڈرنگ کے خلاف تیز ترین قانون تیار کیا گیا ہے۔نئے برطانوی قانون کے تحت پراپرٹی کے غیر ملکی مالکان کو کمپنیوں کو سامنے لانے کے بجائے اپنی شناخت ظاہر کرنا ہوگی۔برطانیہ کی جانب سے روس پر لگائی جانے والی پابندیوں میں روس کے بینکوں اور رہنماؤں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔روس میں غیر ملکی اثاثے ڈکلیئر کرنے کا قانون منظوردوسری جانب روس نے 14 مارچ سے 28 فروری 2023ء تک غیر ملکی اثاثے ڈکلیئر کرنے کا قانون منظور کر لیا۔ویزا اور ماسٹر کارڈ کا روس میں آپریشن معطلادائیگی کی کمپنیوں ویزا اور ماسٹر کارڈ نے روس میں آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔گے، جبکہ دنیا بھر میں جاری ہونے والے کارڈ روس میں فعال نہیں ہوں گے۔یوکرین روس کو جنگ میں ہرا سکتا ہے: امریکی وزیرِ خار جہگزشتہ ماہ 24 فروری کو روس نے اپنے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کر دیا۔ اس دوران روس نے یوکرین کے شہر خیرسون پر قبضہ کر لیا، یہ جنگ یوکرینی دارالحکومت کیف تک پہنچ چکی ہے اور روسی فوج کیف میں داخل ہو چکی ہے۔اب تک کی جنگ میں دونوں جانب کے سیکڑوں فوجی اور یوکرینی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ یوکرین کے 2 اہم ایٹمی پلانٹ بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی کی جانب سے نیٹو سے یوکرینی فضائی حدود کو نو فلائی زون قرار دینے کی درخواست بھی کی گئی۔یوکرینی صدر نے نیٹو سے درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی اقدام کریں، یوکرین کو شام میں تبدیل ہونے نہ دیا جائے۔نیٹو نے یورپی یونین اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یوکرین کی نو فلائی زون قرار دیے جانے کی درخواست مسترد کر دی۔نیٹو چیف اسٹولٹن برگ کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ تنازع میں مداخلت کی تو ماسکو سے براہِ راست تصادم کا خطرہ ہو گا، براہِ راست تصادم سے ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نو فلائی زون کے نفاذ کا مطلب لڑاکا طیارے یوکرینی ایئر اسپیس بھیجنا ہے اور پھر روسی طیاروں کو مار گرا کر نو فلائی زون کو نافذ کرنا ہے۔نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ یورپ میں مکمل جنگ پر ہی اختتام پذیر ہو گا، اس میں بہت سے ممالک شامل ہوں گے، بہت سارے انسانی مصائب جنم لیں گے۔
مغرب میں جائیداد بنانیوالے روسیوں نے سنگین غلطی کی: اسپیکر ڈوما



