کینیڈا: (نیشنل ٹائمز) بہت جلد ہسپتالوں اور گھروں میں بھی انسان نما روبوٹ عام ہوں گے جو مریضوں کا بلڈ پریشر نوٹ کریں گے جس سے مریضوں کی درست خبرگیری میں مدد ملے گی۔سائمن فریزر یونیورسٹی کے سائنسداں وو سو کم نے ایک انسان نما روبوٹ کو یہ تربیت فراہم کی ہے۔ یہ روبوٹ مریض کو ایک مرتبہ چھونے سے اس کا بلڈ پریشر درست انداز میں نوٹ کرکے بتاتا ہے۔ نیچر گروپ کے تحقیقی جریدے این پی جے میں شائع رپورٹ کے مطابق اس روبوٹ میں یہ صلاحیت فطرت میں پائی جانے والی جونکوں کو دیکھتے ہوئے پیدا کی گئی ہے۔دوسال سے جاری کووڈ 19 کی وبا اور فاصلہ رکھنے کی وجہ سے اب بھی دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے دور ہیں اور اس تناظر میں طبی روبوٹ ، ریموٹ ڈاکٹر اور آن لائن چیک اپ کے شعبوں میں تیزرفتار ترقی ہوئی ہے۔ اب بلڈ پریشر روبوٹ بھی اس ضمن میں ایک نئی اختراع ہے۔جونک کی چپکنے کی خاصیت کی نقل کرتے ہوئے پہلے سائنسدانوں نے ایک سینسر بنایا جسے لیچ انسپائرڈ اوریگامی (ایل آئی او) کا نام دیا گیا ہے۔ اسے روبوٹ کی انگلیوں پر نصب کیا گیا ہے۔ ڈیزائن کے مطابق جیسے ہی روبوٹ اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی انگلی ایل آئی او میں رکھتا ہے تو ہوا کھینچنے کی قوت سے سینسر انگلی سے چپک جاتے ہیں۔ پھر سینسر کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ پھیل اور سکڑ سکتا ہے۔
یہ انسان نما روبوٹ اب بلڈ پریشر بھی چیک کرسکتا ہے



