اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) تھکن ایک عام شکایت ہے، جس سے مَرد، عورت، بچّے، بوڑھے یا جوان کسی کو مفر نہیں، خاص طور پر موجودہ تیز رفتار دَور میں یہ ایک بیماری بن چُکی ہے۔ ایک ایسی بیماری، جو کئی بیماریوں کو جنم دینے کی موجب بن سکتی ہے۔ تھکن دراصل ایک کیفیت کا نام ہے، جس میں جسمانی توانائی اور ہمّت جواب دے جاتی ہے۔ تھکاوٹ کے شکار افراد خود کو ذہنی و جسمانی طور پر لاچار محسوس کرتے ہیں۔ یوں سُستی و کاہلی انہیں گھیر لیتی ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ تھکن صرف کام کی زیادتی یا کم زوری کے سبب ہوتی ہے۔ ہر چند کہ بنیادی وجوہ یہی تصوّر کی جاتی ہیں لیکن کئی طبّی، جذباتی اور نفسیاتی محرّکات بھی تھکن کا باعث ثابت ہوسکتے ہیں۔ عام طور پر زیادہ کام کرنے سے تھکن محسوس ہوتی ہے کیونکہ جب ہم اپنی جسمانی توانائی کا زیادہ حصّہ کسی کام پر صرف کرتے ہیں، توخون میں شکر اور آکسیجن کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ دماغ اس صُورتِ حال کو محسوس کرتے ہی جسم کے ہر عضو کو پیغام دیتا ہے کہ شکر اور آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہورہا ہے، لہٰذا مزید توانائی خرچ نہیں کی جاسکتی۔
ہم جلدی تھک کیوں جاتے ہیں؟



