اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) حکومت اپوزیشن سے جیت گئی سینیٹ میں بھی اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کروا لیا ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے سینٹ اجلاس میں تحریک پیش کی گئی جہاں ترمیمی بل کے حق میں 43جبکہ مخالفت میں بھی 43ووٹ آئے تاہم چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنے ووٹ تحریک کے حق میں دے دیا یوں حکومت اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس کرانے کے بعد حکومت نے سینٹ میں حکمت عملی بھی ترتیب دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق سینٹ سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پاس کرانے کے لئے حکومتی شخصیات نے اپوزیشن سینیٹرز سے رابطے کئے ہیں جس میں بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن کے3 سے 4 سینیٹرز کی غیرحاضری کا کہا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ (ن )لیگ کے 2 سینیٹرز، ایک پیپلز پارٹی اور ایک چھوٹی جماعت کے ارکان کی غیر حاضری کا امکان ہے۔یاد رہے کہ سینٹ میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے، ان کے سینیٹرز کی تعداد 51 جبکہ حکومتی اتحاد 48 سینیٹرز پر مشتمل ہے، حکومتی سینیٹرز کی جانب سے اپوزیشن سینیٹرز سے رابطوں پر اپوزیشن سربراہوں نے اپنے جماعت کے سینیٹرز کو ہر صورت ایوان بالا میں پہنچنے کی ہدایت دے دی ہیں۔دوسری جانب اپوزیشن رہنما نے ان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امکان ہے کہ کچھ سینیٹرز قانون سازی کے وقت موجود نہ ہوں۔ذرائع کے مطابق حکومت اپنی صفوں میں موجود ناراض سینیٹرز کو بھی منانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ووٹنگ کے روز یہ سینیٹرز بل کے حق میں ووٹ کاسٹ کرینگے۔
اپوزیشن دیکھتی رہ گئی ، حکومت نےسینیٹ میں ایک اضافی ووٹ سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کروالیا



