الیکٹرک کار: ہم بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے ناگزیر انقلاب سے کتنا دور ہیں؟

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ہم گاڑیوں کی صنعت میں ایک عظیم انقلاب سے گزر رہے ہیں۔ سنہ 1913 میں ہنری فورڈ کی جانب سے گاڑیوں کی پہلی پروڈکشن لائن کے بعد یہ پہلا موقع ہے۔یہ انقلاب آپ کی سوچ سے پہلے ایک حقیقت میں بدل سکتا ہے۔اس صنعت کے کئی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ہم اس مرحلے سے اب گزر چکے ہیں جب ہم الیکٹرک گاڑیوں کو ‘مستقبل کی چیز’ قرار دیں کیونکہ ان کی خرید و فروخت بہت جلد روایتی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو پیچھے چھوڑنے والی ہیں۔آپ چاہے اس سے اتفاق نہ کریں لیکن دنیا کی سب سے بڑی کار کمپنیاں یہی خیالات ظاہر کرچکی ہیں۔جیگوار نے سنہ 2025 تک اور وولو نے سنہ 2030 تک صرف الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ برطانوی سپورٹس کار کمپنی لوٹس نے کہا ہے کہ وہ سنہ 2028 سے صرف الیکٹرک کار کے ماڈل بیچیں گے۔اور بات صرف مہنگے برانڈ تک محدود نہیں۔جنرل موٹرز نے کہا ہے کہ وہ سنہ 2035 تک صرف الیکٹرک گاڑیاں فروخت کریں گے۔ فورڈ کے مطابق سنہ 2030 تک یورپ میں ان کے پاس بیچنے کے لیے صرف الیکٹرک گاڑیاں ہوں گی جبکہ سنہ 2030 تک وولکس ویگن کی 70 فیصد فروخت ای وی کارز پر مبنی ہوں گی۔یہ چائے کی پیالی میں طوفان یا گرین واشنگ (کسی کمپنی کی جانب سے خود کو ماحول دوست دکھانے کا غلط تاثر) نہیں۔جی ہاں، دنیا بھر میں کئی حکومتیں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی عائد کے اہداف طے کر رہی ہیں جس سے اس انقلاب نے زور پکڑا ہے۔اندرونی دہن انجن (انٹرنل کمبسشن انجن یا حیاتیاتی ایندھن سے چلنے والے انجن) کا خاتمہ ناگزیر ہے اور یہ صرف ٹیکنالوجی کے انقلاب سے ممکن ہوا ہے۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی کا انقلاب بڑی تیزی سے آتا ہے۔انٹرنیٹ پر ایک نظر دوڑائیں۔میرے خال سے ای وی مارکیٹ اس وقت وہیں موجود ہے جہاں انٹرنیٹ 1990 کی دہائی کے اواخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں تھا۔اس وقت انٹرنیٹ کے بارے میں ہر کوئی بات کر رہا تھا کہ اب بذریعہ کمپیوٹر ہم ایک دوسرے سے بات کر سکیں گے۔جیف بیزوز نے ایمازون کی بنیاد رکھی۔ گوگل نے الٹاوسٹا، آسک جیووس اور یاہو کی جگہ لے لی۔ ان میں سے کچھ کمپنیاں خطیر رقم میں فروخت ہوئی تھیں۔جو کمپیوٹر سے دور رہا اس کے لیے یہ بحث دلچسپ مگر بےمحل تھی۔ کمپیوٹر سے رابطے قائم کرنا آخر کتنا کارآمد ہوگا؟ ہمارے پاس موبائل فونز ہیں تو!لیکن انٹرنیٹ کسی دوسری نئی اور کامیاب ٹیکنالوجی کی طرح سیدھے راستے پر چلتے ہوئے دنیا پر غالب نہیں آیا۔ یہ مسلسل ارتقا کے عمل سے گزرا اور ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کا وقت دیتا رہا۔انٹرنیٹ کی پیداوار دھماکہ خیز اور موجودہ نظام میں خلل ڈالنے والی تھی۔ اس نے موجودہ کاروبار کچل دیے اور ہماری مکمل طرز زندگی بدل کر رکھ دی۔ کسی گراف پر یہ پیداور ایس کے انگریزی حروف جیسی دکھتی ہے اس لیے ٹیکنالوجی کے ماہر اسے ایس کرو کہتے ہیں۔



  تازہ ترین   
پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد میں ملاقات کریں گے
ایران کے راستے برآمدات: بینک گارنٹی اور کریڈٹ لیٹر کی شرط عارضی معطل
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے
ٹرمپ کی دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق
وزیراعظم اور صدرِ ایران کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
پاکستان اور چین کا خطے میں امن اور سفارتی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
دونوں ممالک میں بات چیت کا عمل جاری، ایران ڈیل چاہتا ہے: امریکی صدر
ایران جنگ رکوانے کا مشن، اسلام آباد میں 29، 30 مارچ کو 4 فریقی اجلاس ہوگا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر