اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس وقت ایک پاکستان نہیں بلکہ دو پاکستان ہیں۔ ایک رائے ونڈ کے وزیراعظم کے لئے جس کو سزا یافتہ ہونے کے باوجود باہر جاکر وہاں رہنے کی اجازت دے دی گئی اور دوسرا نواب شاہ کا صدر جو ابھی تک ملک میں موجود ہے اور اپنا علاج کرانے کے لئے باہر جانے سے انکار کرتا ہے حالانکہ اس کے بچے انہیں باہر جانے کا کہہ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک پاکستان وہ ہے جہاں رائے ونڈ کا اپوزیشن لیڈر ضمانت حاصل کرلیتا ہے اور دوسرا سکھر کا اپوزیشن لیڈر ہے جو گذشتہ دو سالوں سے جیل میں ہے اور اسے ضمانت کے لئے ایک عدالت سے دوسری عدالت میں گھمایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات میرے لئے نہایت حیران کن ہے اور وہ اس کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فرحت اللہ بابر، سید نیر حسین بخاری، سینیٹر پلوشہ خان اور فیصل کریم کنڈی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ وزیراعظم ابھی تک مافیا اور کرپشن کے ترانے گا رہے ہیں۔ اب سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے ہیں کہ اگر انہیں دوسری مدت کے لئے سلیکٹ کر لیا گیا تو وہ احتساب کریں گے یہ بات ایک مذاق ہے۔ تاہم اس ملک میں دوہرا نظام رائج ہے جس سے وزیراعظم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ اس حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام اور سیاسی انجینئرنگ ہے۔ یہ منصفانہ نظام نہیں۔ انہوں نے عمران خان سے پوچھا کہ انصاف کہاں ہے، اگر وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگتا ہے تو وہ جیل نہیں جاتے۔ اگر وزیراعظم کی بہن پر الزام لگتا ہے تو انہیں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام ان لوگوں کا احتساب کریں گے۔ عوام اس ناکام حکومت کی وجہ سے پریشان ہے۔ والدین اپنے بچوں کو نہ تعلیم دے سکتے ہیں نہ ہی انہیں دو وقت کی روٹی دے سکتے ہیں اور اس سلیکٹڈ حکومت اوار اس کے وزیراعظم عوام معاف نہیں کریں گے۔ پی پی پی عوام اور پارلیمنٹ پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن پارٹیاں اس حکومت کو نہیں ہٹا سکتیں تو پھر جب بھی انتخابات ہوں گے تو عوام کے ہاتھ اس حکومت کے اراکین کے گریبان پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام ملک کی نظریں معیشت پر لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان یا اس کے وزراءکا عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ حکومت پاکستان کے عوام کی تکالیف سے بے خبر ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ مشکل وقت گزر چکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشکل وقت ان کی اے ٹی ایم مشینوں کے لئے ختم ہوا ہے جبکہ عوام کے لئے ہر آنے والا دن ان کی تکالیف میں اضافہ کر رہا ہے۔ وزیراعظم دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت ترقی کر رہی ہے جبکہ پاکستان میں افراط زر پورے جنوبی ایشیا کے ممالک سے زیادہ ہے۔ عوام کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور ان کے پاس ادوایت اور بچوں کی تعلیم کے لئے پیسے نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر معیشت ترقی کر رہی ہے تو عمران خان دنیابھر سے بھیک کیوں مانگ رہے ہیں اور آئی ایم ایف سے پیچھا کیوں نہیں چھڑا لیتے۔ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ جی ڈی پی زیادہ ہو رہی ہے تو پھر عمران خان اسلامی ممالک سے بھیک کیوں مانگتے ہیں؟ چیئرمین بلاول نے کہا کہ اگر ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100فیصد ، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں میں 150فیصد اور ہمارے بھائیوں کے لئے 175فیصد اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رقم موجود ہے تو بھوک، غربت اور بیروزگاری جیسے مسائل ایک ہفتے میں حل ہو سکتے ہیں اور بجٹ کے بعد پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنی چاہئیں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اب ہر کوئی بشمول شوکت ترین بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے موقف کے سچا ہونے کا اعتراف کر رہے ہیں۔ سابق صدر زرداری کہتے تھے کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور اب یہ حکومت بھی یہی کہہ رہی ہے۔ حکومت کے وزیرخزانہ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے جو ڈیل کی گئی تھی وہ غلط تھی تو پھر یہ حکومت اب تک آئی ایم ایف میں کیوں ہے؟ چیئرمین بلاول نے کہا کہ حکمران عوام سے خوفزدہ ہیں اور آج آزاد کشمیر کے انتخابات سے بھاگ رہے ہیں۔ حکومت نے سینیٹ میں بھی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن الیکشن کمیشن نے سخت موقف اختیار کیا اور انتخابات میں دھاندلی کی اجازت نہیں دی۔ اب حکومت کوشش کر رہی ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے انتخابی اصلاحات نافذ کی جائیں جس کے خلاف الیکشن کمیشن کو سخت اقدام لینا چاہیے۔ ہم حکومت کی اس کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی وفد الیکشن کمیشن بھیجیں گے ۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ میڈیا آرڈیننس ڈکٹیٹر ضیاالحق کی طرح میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسد طور پر حملے اور عاصمہ جہانگیر اور حامد میر کے خلاف مقدمات کی مذمت کی ہے۔ حکومت سچ کا سامنا نہ کرکے اپنی کمزوری کا اظہار کر رہی ہے۔ چیئرمین بلاولنے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی صورتحال پر پارلیمنٹ میں بریفنگ دی جائے اور ایک فورم بنا کر یا ایک پارلیمانی کمیٹی بنا کر پاکستان کے عوام کو پارلیمنٹ کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے۔ افغانستان پر جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارلیمنٹ کے ذریعے پاکستانی عوام کریں گے۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا حق ہے کہ وہ جو بات چاہے کریں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا مولانا کی پارٹی سے سیاست میں تین نسلوں کا ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے کچھ اراکین کی جانب سے نامناسب رویے کے باجود پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو یقین دلایا کہ پارٹی کے سارے اراکین اس بجٹ کو نامنظور کروانے کے لئے بلا کسی شرط پر تعاون دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم میں شامل پارٹیاں استعفے دینے کے بارے میں سچی ہوتیں تو اسی روز استعفے دے دیتی جب پیپلزپارٹی نے استعفوں سے لانگ مارچ کو نتھی کرنے کو منظور نہیں کیا تھا۔ اگر پی ڈی ایم کی پارٹیوں نے استعفے دینے تھے تو اسی روز استعفے دے دیتی اور اگر وہ چاہتی ہیں تو ابھی بھی استعفے دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو عثمان بزدار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سندھ میں پانی کے مسئلے کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پانی نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے سہولتکار وہ ہیں جو عمران خان اور بزدار کو پارلیمنٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود ہٹانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی بھی اپنے سارے اراکین کو شہباز شریف کے حوالے کرتے ہیں تاکہ وہ بجٹ کو نامنظور کریں اور عوام کو افراط زر اور بیروزگاری سے نجات دلا سکیں۔
اس وقت ایک پاکستان نہیں بلکہ دو پاکستان ہیں، بلاول زرداری نواز شریف پر پھٹ پڑے



