اسلام آ باد (نیشنل ٹائمز ) چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فریم ورک کے تحت کیروٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تعمیر پر کام کرنے والے عملے کے لئے ایک چینی میڈیکل ٹیم پاکستان بھیج دی ہے، ٹیم کرٹیکل کیئر میڈیسن ایک انچارج ڈاکٹر اور پانچ نرسوں پر مشتمل ہے۔ چائنا ا کنامک نیٹ کے مطابق چین کے صوبہ ہوبی کے شہر ای چھانگ میں فرسٹ پیپلز اسپتال سے یہ تیسری ٹیم ہے جو پاکستان بھیجی گئی ہے ۔ان سبھی کو وبائی امراض کی روک تھام، اس پر قابو پا نے اور مریضوں کے علاج کا تجربہ ہے کیونکہ وہ کووڈ 19 کے خلاف جنگ کے دوران صف اول کے کارکن رہے ہیں۔ وہ ٹیم کے ان ساتھیوں کیساتھ ملکر کام کریں گے جو پہلے بھیجے گئے تھے ا ور تعمیراتی مقام پر نیوکلک ایسڈ ٹیسٹوں کے نمونے جمع کرنے اور جانچنے کی صلاحیت کو بہتر بنائیں گے۔ نو رکنی ٹیم کو ہر دو ہفتوں میں تقریبا 4000 کارکنوں کے لئے COVID-19 نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ کر نا پڑا۔ ای چھا نگ کے فرسٹ پیپلز اسپتال کے نرسنگ سپروائزر یو لیانگوان نے کہا ہم نے ایک بار نمونے جمع کیے اور مارچ 2021 میں زیادہ سے زیادہ ایک دن میں 900 سے زائد کیسز تک نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ کیے چائنہ تھری گارجز کارپوریشن (سی ٹی جی) نے پہلی دو میڈیکل ٹیموں کے ساتھ تیسری ٹیم کو بھی کیروٹ اور اس کی تعمیر پر کام کرنے والے کارکنوں کی خدمت کے لئے مدعو کیا تھا۔ ان طبی کارکنوں نے مئی 2020 کے بعد سے ناول کورو نا و ئرس اور وبائی امراض کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے کیروٹ پروجیکٹ کی ہموار تعمیر کو یقینی بنایا ہے۔ چین میں پاکستانی سفیر معین الحق، سی ٹی جی، چین اور پاکستان کے محکموں میں تعمیراتی کام کے انچارج نے ان کی تعریف کی ہے۔ کیروٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، سی ٹی جی نے لگایا یہ سی پیک کے ترجیحی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ 1.74 بلین امریکی ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری سے یہ پاکستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ حل کرے گا اور پائیدار اور مستحکم توانائی کی سہولت فراہم کرے گا۔ چائنا تھری گورجز کارپوریشن نے ایک بار 2020 میں پاکستانیوں کو کووڈ 19 پر قابو پانے کے لئے دو کھیپوں میں سامان کی فراہمی کی تھی، جس میں 750000 سرجیکل ماسک، وینٹیلیٹر اور حفاظتی لباس شامل تھے۔
چین نے سی پیک پروجیکٹ کے لئے میڈیکل ٹیم پاکستان بھیج دی



