پاک چین جے وی ٹائر پلانٹ رواں ماہ پیداوار شروع کرے گا

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاک چین جوائنٹ وینچر ٹائر پلانٹ رواں ماہ اپنی پیداوار شروع کرنے کے لئے تیار ہے، جوائنٹ وینچر کا مقصد زیادہ برآمد سے اخراجات کو کم کرنا ہے۔ اس کا اپنی ٹائر آوٹ پٹ کا کم سے کم 85 فی صد برآمد کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ گوادر پرو کے مطابق اس سے قبل پاکستان میں جوتے کی ایک اہم برآمد کنندہ کمپنی سروس گلوبل فوٹ ویئر لمیٹڈ (ایس جی ایف ایل) نے پاکستان میں بسوں اور ٹرکوں کے ٹائر تیار کرنے کا پلانٹ قائم کرنے کے لئے ایک چینی فرم چھاو یا نگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ مشترکہ منصوبہ شروع کیا ہے۔اس منصوبے کی کل لاگت کا تخمینہ 16.43 بلین روپے ہے۔ اس منصوبے میں 50 فی صد قرض اور 50 فی صد ایکوئٹی کے ذریعے مالی عانت فراہم کی جارہی ہے۔ منصوبے کی سالانہ 600000 ٹائر وں کی پیداوار ی صلاحیت ہے ۔ نئی پیداواری سہولت پاکستان میں ایک ایسے وقت میں قائم کی گئی جب امریکہ اور یوروپی یونین ( ای یو ) نے چین میں بنے ٹائروں پر اینٹی ڈمپنگ اور جوابی ڈیوٹی لگائی ۔ اس مشترکہ منصوبے سے مغربی منڈیوں سے برآمدی آرڈر جیتنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ کمپنی کو ٹیکس چھوٹ دینے سے اس کی پیداواری لاگت کا مقابلہ نسبتا کم رہے گا۔ سروس انڈسٹریز لمیٹڈ کے سی ای او عارف سعید اور چینی چھا ویا نگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین لی چھنگ ون نے نومبر 2019 میں مشترکہ منصوبے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ اسکیم ملک کی بین الاقوامی ادائیگی کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں بہتری کے لئے برآمدی منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے حکومت کے کلیدی ہدف کے مطابق ہے۔ فی الحال، چینی ٹائروں نے پاکستان کے 85 فیصد مارکیٹ شیئر پر قبضہ کیا ہے جس میں دو سال پہلے کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ہے۔ پاکستان ٹائر امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی ٹی آئی ڈی اے) کے سابق چیئرمین عظیم کے یوسف زئی نے کہا کہ عام ٹرک کیٹیگری کے ٹائروں میں دو سال قبل چین کا حصہ 30 سے 40 فی صد تھا جو اب 65 سے 70 فی صد پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح، چین بھی ٹرک / بس ٹائر مارکیٹ میں 75 فی صد سے زیادہ مارکیٹ شیئر پر حاوی ہے، جو دو سال پہلے 40 فی صد تھا۔ ڈیلروں کی تعداد میں مشروم شرح نمو نوٹ کی گئی ہے جو باقاعدگی سے چینی ٹائروں سے مارکیٹ میں بھر رہے ہیں۔دوسری طرف پاکستان ربڑ ٹائر مارکیٹ نے 2020 میں تقریبا 415 ملین امریکی ڈالر کی قیمت حاصل کی۔ توقع کی جارہی ہے کہ 2021 سے 2026 کے دوران مارکیٹ میں سالانہ شرح نمو تقریبا 24 فیصد کے ساتھ 2026 تک 1510 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت ٹائر مینوفیکچرنگ پلانٹس کا قیام خاص طور پر مفید ہوگا کیوں کہ پاکستان سی پیک کے تحت صنعتی کاری کے دوسرے مرحلے میں چینی صنعت کی پاکستان منتقلی کا منتظر ہے ،جس سے برآمدات کے اضافے میں مدد ملے گی۔



  تازہ ترین   
ایران کا امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، سینٹ کام کا ’جوابی کارروائی‘ ختم کرنے کا اعلان
ہیلی کاپٹر کی تباہی کا بدلہ، امریکہ کے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے
امریکہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہمارے خطے سے نکل جائے، عباس عراقچی
امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا، ایرانی نائب وزیر خارجہ
3 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے ابوظہبی سے تہران منتقل، اسرائیلی میڈیا
خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جارحیت برقرار رہی تو جواب مزید سخت ہوگا: ایران
سکیورٹی فورسز کا واشک میں کامیاب آپریشن، 14 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک
ایران سب کچھ دینے کیلئے تیار، دو تین روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر