نیویارک(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی نیویارک میں امریکن پاکستانی کاروباری حضرات (Entrepreneurs ) کے ساتھ ملاقات۔وزیر خارجہ نے امریکن پاکستانی کاروباری حضرات سے خطاب کیا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی موثر خارجہ پالیسی کیلئے مضبوط معیشت کی ضرورت ہے۔ ہم اسی مقصد کے تحت اقتصادی سفارت کاری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری مالی اور جانی قیمت چکائی ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سیاحت کے فروغ کیلئے ای ویزہ رجیم کو بروئے کار لا رہے ہیں ۔اقتصادی ترقی کا عمل آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔آج سیمنٹ کی فروخت، کرونا وبا کے باوجود خاطر خواہ حد تک بڑھ چکی ہے۔اس سال ترسیلات زر کی شرح میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، جس کا کریڈٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جاتا ہے۔ ہم پاک چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں چین کے ساتھ مل کر زرعی شعبے کی ترقی کیلئے شاندار منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔ہمارے خطے کو فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ درپیش ہے ہمارے پاس وسائل ہیں، زرخیز زمین ہے ہم دوسرے ممالک کی خوراک سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ہم اپنی ایگریکلچر ریسرچ کو عالمی معیار کے مطابق بنا رہے ہیں ۔صرف ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کے ساتھ 32 شعبوں کی ترقی منسلک ہے گذشتہ کچھ برسوں میں لومز(looms) کو لوہے کے بھاؤ بیچا جا رہا تھا۔آج ہماری ٹیکسٹائیل انڈسٹری پوری طرح فعال ہے۔ہمیں میسر موقعوں کو دیکھنا ہو گا 3 سے چار بلین ڈالر کی مشینری کو امپورٹ کیا گیا ہے ۔جو خوش آئند ہے ہمارے ملک کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ آئی ٹی کے شعبے میں ان کیلئے آگے بڑھنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ہم پانچ چھ بنیادی شعبوں کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔جس میں ہم لوگوں کو سرمایہ لگانے اور منافع کمانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ پیسہ کمانا گناہ نہیں، پیسہ چرانا گناہ ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے پیسہ چرایا جاتا رہا ہماری اپروچ مختلف ہے۔ہم نے روشن ڈیجیٹل پاکستان کا آغاز کیا اور چھ ماہ کے دوران ایک بلین ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں آئیں۔احساس پروگرام کے تحت ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے تخفیف غربت کے عمل میں مصروف ہیں ۔ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے جب شوکت خانم منصوبے اور نمل یونیورسٹی پر کام شروع کیا۔ تو سب سے زیادہ پیسہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دیا۔ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں پاکستان کے سیاسی نظام میں فیصلہ سازی کا اختیار مل سکے۔ ہمارے لیے وہ بیرون ملک پاکستانی جو باہر مزدوری کر کے پیسہ گھر بھجوا رہے ہیں، انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اقتصادی سفارت کاری، خرید و فروخت سے متعلقہ امور کو دیکھنا نہیں ہے۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ہم نے اپنے بیانیے کی موثر تشہیر کیلئے پبلک ڈپلومیسی کے تحت “اسٹریٹیجک کمیونیکیشن” ڈویژن قائم کیا ہے۔ نیویارک میں قونصل جنرل اور سفیر کی اچھی کارکردگی کو میں نے سراہا ہے۔ جہاں غلطی پر سرزنش ہوتی ہے،وہاں اچھی کارکردگی پر تعریف بھی ہو گی۔ہم اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی اقتصادی ترجیحات میں بدل رہے ہیں ۔افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں ہیں کیونکہ یہ خطے کی ترقی اور استحکام کا ضامن ہو گا۔ توانائی کے شعبے میں کاسا 1000 جیسے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں ۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ہونیوالی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت ہمیں کثیر ورک فورس درکار ہے۔ جس کا بڑا حصہ وہ پاکستان سے لینے کے خواہشمند ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقعوں کی فراہمی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ شراکت داری پر کام کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے امریکن پاکستانی کاروباری شخصیات کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے انہیں ہر ممکن کاروباری سہولت کی فراہمی کا یقین دلایا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی نیویارک میں امریکن پاکستانی کاروباری حضرات (Entrepreneurs ) کے ساتھ ملاقات



