ہائکو (نیشنل ٹائمز)اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی کھپت مارکیٹ کے مواقع اور اس کے وسیع تر کھلے پن کی صلاحیت عالمی معیشت کی ترقی کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرے گی۔ چائنہ انٹرنیشنل کنزیومر پروڈکٹ نمائش کے موقع پر ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ہائی نان کے چائنہ انسٹی ٹیوٹ برائے اصلاحات و ترقی کے سربراہ چھی فولن نے کہا کہ توقع ہے کہ 14 ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2025-2021) کے دوران چین دنیا کی سب سے بڑی مصنوعات کی کھپت کی منڈی اور 2035 تک دنیا کا سب سے بڑا خدمات فراہم کرنے والاتاجر ملک بن جائے گا۔چھی نے کہاکہ اگلے پانچ سے 10 سالوں میں عالمی اقتصادی نمو میں چین کی شراکت کی شرح 25 سے 30 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔چھی کا کہنا ہے کہ کوویڈ- 19 کے منفی اثرات کے باوجود چین میں کھپت میں اضافے کا رجحان بدستور برقرار ہے اورایک اندازہ کے مطابق چین کا کھپت کا شعبہ رواں سال کے آخر تک 2020 سے پہلے کی سطح پر واپس آجائے گا۔سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ، چین کی صارف اشیا کی خوردہ فروخت ، جو ملک کی کھپت کی طاقت کا ایک اہم اشارہ ہے ،گزشتہ سال کے مقابلے میں33.9 فیصد اضافے کے ساتھ 105 کھرب یوآن(تقریبا16 کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔
چین کی کھپت مارکیٹ عالمی معاشی نمو کے لئے مدد گارہے:ماہرین



