بزرگ صحافی محمد طفیل جو ایم طفیل کے نام سے لکھتے اور پا طفیل کے نام سے دوستوں کے دلوں میں بستے تھے ۔ اب ہم میں نہیں رہے ۔

انہوں نے 90سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ،60برس کی ایکٹو صحافتی زندگی میں انہوں نے خود کو ہمیشہ عصری آلائشوں سے بچا کر رکھا ۔ نسیم حجازی کے روزنامہ کوہستان سے آغاز کیا روزنامہ آزاد ، مساوات سے ہوتے ہوئے 1981میں روزنامہ جنگ سے منسلک ہوئے اور کامل 40برس تک جنگ کا اداریہ لکھا۔ وہ اپنے شعبے میں ایک مشفق بزرگ کا مقام رکھتے تھے ، کسی بھی جونیئر کو جب بھی ضرورت پڑی انہوں نے پورے خلوص اور توجہ کے ساتھ راہنمائی کی ۔ دینی مزاج ہی نہیں رکھتے تھے ، بلکہ ایک متقی انسان تھے ، نماز پنجگانہ کی ہمیشہ پابندی کی،بلکہ ان کا خشوع و خضوع دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ، اداریہ لکھنے کے بعد تلاوت قرآن پاک کا معمول کبھی ترک نہیں کیا ۔ ہمیشہ محنت اور دیانتداری سے رزق حلال کمایا ۔ آخری عمر میں کچھ برسوں سے صحت کے باعث کچھ سالوں سے وہ باقاعدہ دفتر نہیں آرہے تھے اور ایڈیٹوریل لکھنا چھوڑ چکے تھے۔ لیکن اب بھی ہفتہ وار کالم روزنامہ آواز میں لکھا کرتے تھے ۔یوں انہوں نے اپنی عمر کی آخری سانس تک صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔انتہائی سیدھی اور اجلی زندگی گزاری ، ہمارے کرم فرما تھے ، ہمیشہ محبت سے ملتے ،خندہ پیشانی کے ساتھ گپ شپ کرتے ۔ اب ایسے اجلے لوگ کہاں پائے جاتے ہیں ۔اللہ انہیں غریق رحمت کرے ، آمین




