ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کا تاریخی اقدام مخصوص دوائیوں کی اجارہ داری ختم کر دی گئی۔ پاکستان میں ایلو پیتھک ادویات کا سالانہ مارکیٹ حجم 8بلین ڈالر ہے۔ وطن عزیز ایلوپیتھک ادویات کی فروخت کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ صرف جے ایس کے کمپنی کی سالانہ 95ارب روپے کی ادویات ملک میں فروخت ہوتی ہیں۔دوسرا نمبر گیٹس کمپنی کا ہے جو 72,ارب روپے سالانہ کی ادویات پاکستان میں فروخت کرتی ہے۔ جس میں سے 33ارب روپے کی ادویات 55ممالک کو ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔پاکستان میں 800ایلوپیتھک ادویات تیارکرنے والی کمپنیاں ہیں600لوکل یونٹس ہربل، نیوٹاسیوٹیکل اور ہومیوپیتھیکل ادویات لوکل سطح پرتیار کرتے ہیں۔ایلوپیتھک امپورٹ شدہ ادویات فروخت کرنے والی کمپنیوں کی تعداد پاکستان میں600کے لگ بھگ ہے.500 کمپنیاں ہربل، نیوٹاسیوٹیکل اور ہومیوپیتھیکل ادویات درآمد کرتی ہیںنیوٹا سیوٹیکل اور ہربل پراڈکٹ کی سالانہ فروخت کا حجم 200ارب روپے ہےفیصلے پر درست عمل ہوا تو ڈاکٹر یا ڈاکو کا تاثر ختم کرنے میں مدد ملے گی.1976کے قانون پر 25 سال بعد عمل درآمد کروانے کا اعزاز ڈرگ لائرز فورم کے صدر نور مہر اور انکی ٹیم کو حاصل ہواعوام بھی ڈاکٹر کو دوائی کے برانڈ کے بجائے فارمولا لکھنے پر مجبور کریں۔ نور مہر فارماسسٹ
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کا تاریخی اقدام، مخصوص دوائیوں کی اجارہ داری ختم کر دی گئی



