معروف صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمان (ابن عبدالرحمٰن ) 90 برس کی عمر میں انتقال کرگئے. انہیں لاہور میں سپرد خاک کردیا گیا. آئی اے رحمان انسانی حقوق کے علمبردار ، پروقار، باضمیر اور نہایت شفیق انسان تھے۔ 70برسوں پر محیط صحافتی زندگی کے دوران، وہ فلم، ادب، سیاست اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر لکھتے رہے۔ ان کے آخری مضمون تک، ان کی تحاریر دانش، مزاح اور توانائی سے بھرپور تھیں۔ جبری گمشدگیوں کی مخالفت، سزائے موت اور جبری مشقّت، یا عورتوں، بچوں، اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق کے لیے غیرمتزلزل حمایت کے حوالے سے پاکستان میں شاید ہی کوئی ان کے ہم پلّہ ہو۔ بلا شبہ آئی اے رحمان نےجبر کی قوتوں کے سامنے حق کی آواز بلند کرنے کی جو میراث اپنے پیچھے چھوڑی ہے اس سے عوام کے دلوں میں انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے احترام کی قدر پیدا ہوئی ہے۔ وہ بے آوازلوگوں کی آواز بنے اور ستم زدہ افراد کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے۔وہ معاشرے کے لئے انسانی اقدار،سیاسی بصیرت، وسیع علم اور دانش ایسے تمام افراد کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنے۔ان کے انتقال کی خبر ہر محبِ وطن پاکستانی کے لئےصدمے کا باعث ہے۔دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو وہ شخص جس نے لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا راستہ دکھایا، بدترین حالات میں بھی اپنے ترقی پسند نظریات کے لئے جدوجہد کی وہ خاموشی سے اپنے پیچھے ترقی پسند ورثہ اور سول سوسائٹی کے لئےبڑا خلا چھوڑ گیا ہےآئی اے رحمان زبانی جمع خرچ ہر اکتفا کرنے والوں میں سے نہ تھے ، بلکہ صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کی پاداش میں جیل اور قید تر برداشت کرنے کے بعد بھی اپنے موقف پر قائم رہے۔ وہ ایک وسیع النظر شخص کی طرح دوسروں کا نقطہ نظر سننے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ جس بات نے انہیں ہر دلعزیز بنایا وہ ان کا مشفقانہ رویہ اور برتائو تھا۔ ان کی ذاتی رنجشیں تھیں اور نہ ہی کسی سے عناد۔ وہ جادوئی کشش رکھتے تھے ہر کوئی ان کا احترام کرتا تھا۔
پروقار آئی اے رحمان کی زندگی کا سفر بھی تمام ہوا، قاضی عبدالقدیر خاموش



