اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن صدر کی جانب سے خط لکھے جانے کے 2 ہفتے بعد بھی نام بھجوانے میں ناکام ہوگئے جبکہ اپوزیشن کی تین بڑی جماعتوں نے الگ الگ نام تجویز کر دیئے مگر صدر کو بھیجنے کے لئے تین ناموں پر اتفاق نہ ہو سکا ،حکومت نے اپوزیشن کے ناموں کے بعد ہی اپنےنام صدر کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے اس وقت تک موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال ہی چیئرمین کے عہدے پر کام کرتے رہیں گے ۔ذرائع کا کہنا ہےکہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت کو اپوزیشن کے ناموں کا انتظار ہے ۔پیپلز پارٹی،جے یو آئی ف اور ن لیگ نے اپنے اپنے نام سٹیرنگ کمیٹی میں پیش کردئیے ، سٹیرنگ کمیٹی صدر کو بھجوانے کیلئے تین ناموں پر ابھی تک اتفاق نہیں کرسکی ۔ جے یو آئی ف نے چیئرمین نیب کیلئے جسٹس( ر) دوست محمد خان کا نام دے دیا۔دوست محمد خان اعلی عدلیہ کے جج رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ناصر سعید کھوسہ، سلمان صدیق اور عرفان قادر کے نام تجویز کیے ہیں ۔ پیپلز پارٹی سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کا نام سامنے لے آئی ہے ۔ پیپلز پارٹی نے ایک سابق جج کا نام بھی تجویز کررکھا ہے ۔ زیر غور ناموں میں سے اپوزیشن لیڈر کو تین نام صدر کو بھجوانے ہیں۔ اپوزیشن کے اختلافات کے باعث حکومت موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حکومت بھی اپوزیشن کے ناموں کی منتظر ہے ۔ اپوزیشن قومی اسمبلی کے رواں اجلاس کے دوران دوبارہ چیئرمین نیب کے ناموں پر مشاورت کرے گی ۔ اپوزیشن کے ناموں کے بعد حکومت اپنے نام صدر کو بھجوائے گی۔
حکومت اور اپوزیشن 2 ہفتے گزر جانے کے باوجود نئے چیئرمین نیب کیلئے نام صدر کو بھجوانے میں ناکام



