اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سے متعلق نازیبا بیانات اور الزامات کے معاملے پر فواد چوہدری کے بعد اعظم سواتی نے بھی معافی مانگ لی۔وزیر ریلوے اعظم سواتی کے خلاف شوکاز نوٹس کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ممبرز شاہ محمد جتوئی اور نثار درانی پر مشتمل بینچ نے کی۔اعظم سواتی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے، ان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر پیش ہوئے اور بتایا کہ اعظم سواتی کو کوئٹہ جانا پڑا، اہم کام پڑگیا تھا ورنہ وہ ضرور آتے۔ممبر کمیشن نے بیرسٹرعلی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ آنے سے اجتناب کرنا چاہ رہے تھے؟ آپ کیا لائے ہیں، پڑھ کر سنائیں، اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے اعظم سواتی کا معافی نامہ پڑھ کر سنایا۔اعظم سواتی کا اپنے بھیجے گئے جواب میں کہنا تھا کہ میں قانون پر عمل کرنے والا شخص ہوں، جمہوری انسان ہوں، جمہوریت کا فروغ کرتا ہوں، کرپشن کے خلاف جدوجہد کی ہے، الیکشن کمیشن کی عزت کرتا ہوں، میری ڈیوٹی ہے ای سی پی کو مضبوط کرنا ہے۔اعظم سواتی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے، ان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر پیش ہوئے اور بتایا کہ اعظم سواتی کو کوئٹہ جانا پڑا، اہم کام پڑگیا تھا ورنہ وہ ضرور آتے۔ممبر کمیشن نے بیرسٹرعلی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ آنے سے اجتناب کرنا چاہ رہے تھے؟ آپ کیا لائے ہیں، پڑھ کر سنائیں، اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے اعظم سواتی کا معافی نامہ پڑھ کر سنایا۔اعظم سواتی کا اپنے بھیجے گئے جواب میں کہنا تھا کہ میں قانون پر عمل کرنے والا شخص ہوں، جمہوری انسان ہوں، جمہوریت کا فروغ کرتا ہوں، کرپشن کے خلاف جدوجہد کی ہے، الیکشن کمیشن کی عزت کرتا ہوں، میری ڈیوٹی ہے ای سی پی کو مضبوط کرنا ہے۔سماعت کے بعد وزیر ریلوے اعظم سواتی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ریاستی اداروں کی عزت کرنا اور طاقتور بنانا ہر شہری کا فرض ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کروانا اور ہمارا کام مدد کرنا ہے، اگر کوئی اونچ نیچ ہوجائے تو ہر شہری کو معذرت کرنی چاہیے، آج ہم نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگی ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے باضابطہ معافی نامہ جمع کروا دیا ہے۔
فواد چوہدری کے بعد اعظم سواتی نے بھی معافی مانگ لی



