لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 فروری2021ء) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ الیکشن میں آپ کی عوام دشمنی کا بوجھ اٹھانے سے لوگ انکاری ہیں، آپ الیکشن کی پرچی پر بار کوڈ لگوائیں یا خود بکسے میں بیٹھ جائیں، آپ کیخلاف ووٹ دینے والے عوام کے غصے سے زیادہ خوف زدہ ہیں، یہ خوف تین سال میں آپ کی عوام دشمن پالیسی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں حکومتی ترجمانوں اور وزراء کے بیانات جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن کی پرچی پر بار کوڈ لگوائیں یا خود بکسے میں بیٹھ جائیں۔ آپ کے خلاف ووٹ دینے کی تیاری کرنے والے آپ سے زیادہ عوام کے اس غصے سے خوف زدہ ہیں جو تین سال میں آپ کی عوام دشمن پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ آپ کا ساتھ دینا ملک اور عوام دشمنی ہے جس کا بوجھ اٹھانے سے لوگ انکار کررہے ہیں! انہوں نے کہا کہ کتنا قابل ترس ہے وہ شخص جو کرسیِ اقتدار پر بیٹھ کر بھی بےاختیار اور بےبس ہے۔
اب کھمبے نوچتی کھسیانی بلیاں ٹیکنالوجی کا واویلا کر رہی ہیں۔ یاد رکھو کہ کوئی آرٹی ایس اور ڈسکہ دھند ٹیکنالوجی اب نہیں چلے گی! ووٹ کی طاقت سے ڈرتے کیوں ہو؟ واضح رہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ سے متعلق رائے دی ہے کہ سینیٹ انتخابات خفیہ ہی ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے یہ رائے صدارتی ریفرنس پر سنائی۔ عدالت نے صدارتی ریفرنس پر رائے چار ایک کے تناسب سے سنائی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے سے اختلاف کیا۔ سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات میں ووٹنگ پرصدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جا سکتے۔ سینیٹ انتخابات قانون کی بجائے آئین کے مطابق ہوں گے اور آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت سینیٹ الیکشن خفیہ ہوں گے ، انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ، کرپٹ پریکٹسز روکنے کیلئے الیکشن کمیشن جدید ٹیکنالوجی کی مدد لے سکتا ہے ، تمام ادارے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں، ووٹ ہمیشہ خفیہ نہیں رہ سکتا، تفصیلی وجوہات بعد میں دی جائیں گی۔
خیال رہے سپریم کورٹ نے جمعرات کو سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد رائے محفوظ کرلی تھی۔



