لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور میں موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں فیصلہ سنانے کے لیے پہنچے تو دونوں ملزمان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔عدالت نے مقدمہ میں 37 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ گواہوں میں متاثرہ خاتون اور مقدمہ مدعی کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ موٹروے زیادتی کیس کے ملزمان عابد ملہی اور شفقت بگا کو سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل مقدمہ میں ملوث ملزمان عابد ملہی اور شفقت بگا کے 342 کے بیان پر وکلا کی جرح مکمل ہو گئی تھی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں سماعت کر رہے تھے، ملزمان اپنے بیان میں وقوعہ سے منحرف ہو گٸے تھے۔ عدالت نے مقدمہ کے تمام گواہوں کا بیان قلمبند کر کے ملزمان کے بیان قلمبند کیے۔ دوران سماعت رنگ روڈ زیادتی کیس کی متاثرہ اور مدعی کا بیان بھی قلمبند کیا گیا متاثرہ خاتون نے تین گھنٹے سے زاٸد جیل میں موجود رہ کر بیان قلمبند کرایا تھا۔خیال رہے کہ 9 ستمبر 2020ء کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔
موٹروے زیادتی کیس: ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی



