چند ایک چیزیں ایسی ہیں جن پر ہم پاکستانی بہت فخر کرتے ہیں، پرائمری اور سیکنڈری کی معاشرتی علوم کی کتابوں سے لے کر پاکستانیوں کو اس بات پر قائل کیا جا رہا ہے کہ ہمارا کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، کپڑا اور رسیلے آم دنیا بھر میں اپنا مقام رکھتے ہیں اور یہی چیزیں برآمدات سے متعلق ملکی مشکلات کو دور کر سکتی ہیں۔
صنعت، جدت اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرکے معیشت کو ترقی دینے اور متنوع بنانے کے حوالے سے بہت کم تجزیاتی معلومات دستیاب ہیں، پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے تاہم حالیہ برسوں میں زرعی شعبے کی صورت حال بھی زوال پذیر دکھائی دے رہی ہے۔
جب سے 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے حکومت کا مقصد برآمدات کو فروغ دینا اور درآمدات میں کمی لانا ہے تاکہ ادائیگیوں کا توازن قائم رکھا جا سکے، پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات بلاشبہ ٹیکسٹائل کی ہیں اور اس میں کاٹن یارن اور جنڈ کاٹن سب سے زیادہ ترقی یافتہ شعبے ہیں۔
پاکستان اپنی کپاس اور ٹیکسٹائل برآمدات پر انحصار کرتا ہے مگر رواں سال کپاس کے مطلوبہ پیداواری ہدف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا ہے، اعدادوشمار کی وجہ سے پوری ٹیکسٹائل انڈسٹری پریشان ہے، صورت حال کچھ یوں ہے کہ 2015ء سے لے کر 2020ء تک پاکستان کی کپاس کی پیداوار میں 35 فیصد کمی ہو چکی ہے، 2015ء میں ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھیں (بیلز) پیداوار ہو رہی تھیں جو 2020ء میں کم ہو کر صرف 90 لاکھ کی سطح پر آ گئی ہیں، حکومت بڑے بڑے اہداف تو مقرر کر لیتی ہے مگر سوویت طرز کے ان میکرواکنامک اہداف کے حصول کے لیے کاشت کاروں کو کوئی مدد فراہم نہیں کرتی۔
بہرحال کپاس کی پیداوار کے مقررہ ہدف کے حصول کے لیے حتمی کوشش شروع ہو چکی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ملک کو اس ضمن کامیابی حاصل ہو پائے گی۔



