صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کی معاونت سے وزارت فوڈ سکیورٹی میں نیشنل فوڈ سیکورٹی ڈیش بورڈ فعال کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے‘اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانااولین ترجیح ہے، زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے حوالے سے خصوصی اقتصادی زونز پر خاص توجہ دی جائے،زرعی شعبے کی بہتری، پیداوار میں اضافے اور شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے مرتب کیے جانے والے میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبوں کے حوالے سے ٹائم لائنز پر مبنی ایکشن پلان پیش کیا جائے،تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کی معاونت سے وزارت فوڈ سیکیورٹی میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی ڈیش بورڈ فعال کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے،تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول ریسرچ اداروں، یونیورسٹیوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان کوارڈینیشن کو مزید مستحکم اور اس حوالے سے مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔
بدھ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت زرعی شعبے میں اصلاحات خصوصاً زرعی پیداوار میں اضافے اور فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیربرائے فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی عمر حمید خان و زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے متعلقہ افسران شریک ہوئے ۔
اجلاس کو ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے درپیش چیلنجز، مختلف زرعی اجناس کی پیداوار کی موجودہ صورتحال، وزیرِ اعظم ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام پر پیش رفت اور مختلف اجناس کی پیداوار بڑھانے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانااولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری، پیداوار میں اضافے اور شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے مرتب کیے جانے والے میڈیم اور لانگ ٹرم منصوبوں کے حوالے سے ٹائم لائنز پر مبنی ایکشن پلان پیش کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے مختلف اجناس کی پیداوار کے تخمینوں کے حوالے سے درست ، مستند اور قابل بھروسہ ڈیٹا کے حوالے سے ہدایت کی کہ تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کی معاونت سے وزارت فوڈ سیکیورٹی میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی ڈیش بورڈ فعال کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول ریسرچ اداروں، یونیورسٹیوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان کوارڈینیشن کو مزید مستحکم اور اس حوالے سے مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے حوالے سے خصوصی اقتصادی زونز پر خاص توجہ دی جائے۔ زرعی اجناس میں پیداواری اضافے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے دوست ملک چین کے تجربے سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کی مہارت اور تعاون کا بھرپور استعمال یقینی بنایا جائے۔
وزیرِ اعظم نے ایگروایکولوجیکل زونز کوازسر نو مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ زیتون، دالوں وغیرہ جیسی اجناس جن کی ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں کسانوں کو ایسی اجناس کی طرف راغب کیاجائے اور اس ضمن میں ان کو تمام مطلوبہ معاونت فراہم کی جائے۔



