لندن(نیشنل ٹائمز)برطانیہ، افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد دوبارہ آباد کاری منصوبہ کے تحت آئندہ برسوں میں 20 ہزار افغانوں کو قبول کرے گا۔محکمہ داخلہ نے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ منصوبہ کے تحت پہلے سال میں تقریبا 5ہزار افغان برطانیہ میں دوبارہ آبادکاری کے اہل ہوں گے۔دوبارہ آبادکاری کے منصوبے کا اعلان برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے پارلیمنٹ سے خطاب سے چند گھنٹے قبل کیا گیا تھا، جو افغانستان میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر موسم گرما کی تعطیلات میں دوبارہ طلب کیا گیاہے۔جانسن نے امریکی صدر جوبائیڈن سے منگل کی شام کو دونوں ممالک کے شہریوں،موجودہ اور سابق عملہ اور دیگر کو افغانستان سے نکالنے بارے بات کی۔امریکہ کی جا نب سے 2001 میں حکومت سے نکالے جانے والے طالبان نے صرف ایک ہفتہ سے زائد وقت میں اس کے پہلے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جنگ زدہ ایشیائی ملک کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا۔افغانوں کیلئے دوبارہ آبادکاری کے برطانوی منصوبے کو کافی بے لوث نہ ہونے پر پہلے ہی تنقید کا سامنا ہے۔شیڈو سیکرٹری داخلہ نِک تھومس سیمنڈز نے کہا کہ یہ تجویز مسئلہ کے پیمانے کے مطابق نہیں ہے۔لبرل ڈیموکریٹ کی ترجمان برائے خارجہ امور لیلامورن نے کہا کہ 20ہزار اس اسکیم کا ہدف نہیں بلکہ ابتدائی مرحلہ ہونا چاہئے۔
برطانیہ کا طالبان کے قبضہ کے بعد افغان مہاجرین لینے کا اعلان



