کراچی میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختص بستر بھر گئے

کراچی(نیشنل ٹائمز)حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختص بستر بھر چکے ہیں اور کورونا کے نئے مریضوں کے علاج کی مزید گنجائش نہیں رہی ہے ۔ اس صورتحال میں سوال ذہن میں آتے ہیں کہ کیا واقعی کورونا کراچی میں وبا کی صورت میں پھیل گیا ہے ۔کراچی کی آبادی تقریبا تین کروڑ ہے ۔ وبا کی کم از کم تعریف یہ کہ مجموعی آبادی کا صرف ایک فیصد یعنی تین لاکھ مریضوں کو اسپتال میں ہونا چاہیے ۔ ان تین لاکھ داخل مریضوں کا دس فیصد اگر انتہائی شدید بیمار ہو اور اسے آکسیجن کے علاوہ وینٹی لیٹر کی بھی ضرورت ہو تو شہر میں کم از کم تیس ہزار مریض وینٹی لیٹر پر ہونے چاہییں ۔ اب حقیقی صورتحال کیا ہے ، اسے دیکھتے ہیں ۔جس کراچی ایکسپو سینٹر کا بار بار تذکرہ کیا جارہا ہے کہ وہاں پر کورونا کے مریضوں کے لیے صرف 140 بستر موجود ہیں ان میں سے کتنے وینٹی لیٹر ہیں اور کتنے آکسیجن بیڈ اور بھی کم ہیں، کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لیے صرف اور صرف 90 بستر موجود ہیں ۔ رہے کراچی کے نجی اسپتال تو ان کی صورتحال کا خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ جس شہر کی آبادی تین کروڑ ہو اور وہاں پر کورونا کے مریضوں کے لیے صرف پانچ سو کے قریب بستر موجود ہوں اور اس کے بعد کہا جائے کہ اسپتالوں میں گنجائش ختم ہوگئی تو اسے شہر کے ساتھ حکومت کا مذاق ہی سمجھنا چاہیے ۔ اس وقت کراچی کی صورتحال یہ ہے کہ امراض قلب کے قومی اسپتال میں دل کے آپریشن کے لیے آٹھ آٹھ ماہ کی تاریخ نہیں ملتی تو کیا یہ کہا جائے کہ پورا کراچی دل کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے ۔ امراض اطفا ل کے قومی اسپتال میں اتنے مریض بچے ہوتے ہیں کہ اکثر اوقات ایک بستر پر دو مریض بچے نظر آتے ہیں تو کیا یہ کہا جائے کہ کراچی کے سارے ہی بچے بیمار ہیں ۔ ڈاکٹر ادیب رضوی کے معروف ادارے ایس آئی یو ٹی میں ایمرجنسی میں اتنے مریض ہوتے ہیں کہ کوریڈور میں بھی ان کے بیڈ لگے ہوئے ہیں تو کیا کراچی کے سارے شہری گردے کے مریض ہیں ۔المیہ یہ ہے کہ کراچی میں آبادی کے تناسب سے طب کی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں ۔ اتنے بڑے شہر میں اتنے مریض ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔سرکار میں بیٹھے لوگوں کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ انہیں اپنے کمیشن سے مطلب ہے ، انہیں بیرون ملک اپنے اثاثوں کی ضبطگی کا بھی خوف ہے ۔ آغاخان اسپتال ، ضیاءالدین اسپتال ، لیاقت نیشنل اسپتال ، انڈس اسپتال اور دیگر اسپتالوں کی بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان میں سے ہر کسی کو اربوں روپے فنڈ مل رہے ہیںمندرجہ بالا اعداد وشمار کا مطلب یہ ہے کہ کورونا کا پھیلاو اس حد تک نہیں ہے جس کا خوف دلا کر شہر بند کردیا جائے اور سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی بند کردی جائیں ۔ یہ ہزاروں مریض جو اسپتال جا کرروز اپنا علاج معالجہ کرتے ہیں ، ان کی اموات کا ذمہ دار کون ہوگا ۔ صنعتیں ، کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند کردی جائے ، اس سے پھیلنے والی بے روزگاری اور مفلوک الحالی کا ذمہ دار کون ہوگا ۔ انتظامیہ کو مارکیٹوں اور صنعتوں کو تالا لگانے کی آزادی دے دی جائے اور پھر فی مارکیٹ اور فیکٹری لاکھوں روپے رشوت لے کر انہیں کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ اس کے نتیجے میں شہر میں نفرت کی جو آبیاری کی جارہی ہے ، اس کے خوفناک نتائج کا ذمہ دار کون ہوگا ۔کیا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نفرت بوئی جارہی ہے ؟ اس وقت کراچی مقبوضہ کشمیر یا فلسطین کا نقشہ پیش کررہا ہے جہاں پر سگ آزاد ہیں اور سنگ مقید مگر اس کے بارے میں کوئی عملی طور پر آگے بڑھنے کو تیار نہیں ۔ ہر طرف صرف اور صرف بیانات ہیں اور بس ۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، امن کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان کا مذاکرات کا دوسرا دور یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیں گے: عطاء اللہ تارڑ
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
وزیراعظم کا جنگ بندی توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ سے اظہار تشکر
جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام
امریکی نائب صدر آج مذاکرات کیلئے پاکستان نہیں آئیں گے: وائٹ ہاؤس کی تصدیق





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر