گلگت(آئی این پی)شاہراہ قراقرم 50میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی جس کے بعد اسے ایک بار پھر بند کردیا گیا،محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق شاہراہ قراقرم رائیکوٹ پل سے گورنرفارم تک 25مقامات پر بلاک ہے، گزشتہ رات شدید بارشوں، سیلابی ریلوں اور لینڈسلائیڈنگ کے باعث شاہراہ بلاک ہوئی جب کہ شاہراہ 50 میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی ہے،محکمہ داخلہ کا کہناہے کہ شاہراہ کوجلد از جلد کھولنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اس میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں لہذا مکمل بحالی تک شاہراہ قراقرم رائیکوٹ پل سیگورنرفارم تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی،اس کے علاوہ استور کے متاثرہ علاقوں میں واٹر سپلائی کا نظام اب تک بحال نہیں ہوسکا ہے جب کہ ضلع غذر میں بھی گلیشیئرز پگھلنے سے ندی نالوں اور دریا کے بہائو میں اضافہ ہوگیا،دوسری جانب بلتستان ڈویژن میں موسلادھار بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی ہے اور برالدو میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ داخلہ گلگت بلتستان نے شاہراہ قراقرم رائے کوٹ سے گونرفارم تک ہرقسم ٹریفک کی بندش کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ سیاح چلاس سے آگے ہرگز سفرنہ کریں۔محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق شاہراہ قراقرم کھلنے میں 3 سے 4 دن لگ سکتے ہیں۔ شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم بند ہے۔گلگت بلتستان حکومت کے مطابق وہ سیاح جو بارشوں کے دنوں میں گلگت بلتستان کی سیاحت کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ وہ لازمی طور پر محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئیاں دیکھ کر اپنا پروگرام مدنظر رکھیں تاکہ ان کو مسائل سے بچایا جاسکے۔ گلگت بلتستان میں 28 جولائی سے شروع ہونے والی بارشوں نے خطے میں مختلف مقامات پر فلیش فلڈ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نظام زندگی بری طرح متاثرکیا ہوا ہے۔ کئی مقامات پر شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ بابو سر ٹاپ کا راستہ لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے سبب ایک بار پھر بند ہو چکا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں جمعے کی رات سے مختلف مقامات پر ایک بار پھر بارش کی توقع کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو احتیاط کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
شاہراہ قراقرم 50میٹر تک سیلاب میں بہہ گئی



