نور مقدم سے ولید ظہیر تک ۔۔۔۔۔تاثرات:مظہر طفیل

پاکستانی معاشرہ میں عدم برداشت اور بڑھتی ہوئی لاقانونیت اس وقت بام عروج پر ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں طاقتور طبقے نے طے کرلیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون سے بالاتر ہیں ۔ان پر ملک کے کسی قانون کا نفاذ اور اس کا اطلاق ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ طاقت ور طبقے کی مٹھی میں دولت کی بے پناہ قوت اور اس کا استعمال ان سے بہتر کوئی دوسرا نہیں جان سکتا یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں انصاف گھر کی لونڈی کے مصداق کی مثال بن چکا ہے ۔شاہ زیب جتوئی اس سے پہلے متعدد اسی طرز کے کئی کیسز جبکہ حال ہی میں نور مقدم کا بہیمانہ قتل اسی سلسلہ کی کڑی ہے مگر حیرت اور فکر کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں اس طرز عمل کو روکنے کیبجائے طاقت ور طبقہ اپنے حکم کی تکمیل کے لیے ہر وہ غیر قانونی طرز عمل بڑی ڈھٹائی سے استعمال کرتے ہوئےدکھائی دیتا ہے اور اسے اپنا اولین حق بھی سمجھتا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انصاف فراہم کرنے والی عدالتیں بھی ایسے طاقتور عناصر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے یہاں قارئینکی یاداشت کے لیے بیان کرتا چلوں کہ چند ماہ قبل اسلام آباد کشمیر ہائی وے پر کشمالہ طارق کے موجودہ خاوند کے ہونہار فرزند نے جس بہیمانہ اور ظالمانہ طریقے سے ہزارہ سے نوکری کے لیے انٹرویو دینے آئے چار نوجوان دوستوں کوکچلا تھا وہ موقع پر موجود متعدد عام افراد نے دیکھا مگر دوسری جانب پولیس نے کیس کو جس انداز سے رجسٹرڈ کیا وہ ہماری عدلیہ اور معاشرے کے منہ پر ایک طمانچہ تھا چار بے گناہ افراد کا قاتل کشمالہ طارق کا سوتیلا بیٹا دولت اور طاقت کے نشے سے سرشار اس وقت ہمارے معاشرے میں ایک عزت دار اور رکھ رکھائو والے نوجوان کے طور پر اپنی زندگی بسر کررہا ہے اورکوئی پوچھنے والا نہیں ۔یہی وجہ کہ اب اسی شہر میں دن دیہاڑھے نوجوان لڑکی نور مقدم جس بربریت سے قتل کی جاتی ہے ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے مگر ابھی تک نور مقدم کے والدین جو خود بھی اسی طاقتور طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں انہیں انصاف ملتا نظر نہیں آتا کیونکہ دوسری جانب ملزم نہ صرف امریکی شہری ہے بلکہ دولت اس کے گھر کی لونڈی ہے۔چند کروڑ روپے اس سامراجی سسٹم کے منہ میں ٹھونسنے سے ملزم یقینی طور پر باعزت بری ہوجائے گا ابھی تک یہی توقع کی جارہی ہے لہذا ہماری نام نہاد سول سوسائٹی اور دیگر کو کسی بھی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ۔بات اب یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے واقعات اب تواتر کے ساتھ رونما ہونے شروع ہوچکے ہیں ۔گزشتہ دنوں راولپنڈی پولیس کی کرائم ڈائری میں اچانک ایک ایف آئی آر دیکھی تو ذہن میں ایک نہ رکنے والی فلم چلناشروع ہوگئی۔دکھ اور کرب کی جو کیفیت ہوئی‘ بیان سے باہر ہے۔تھانہ صادق آباد کی حدود میں چھ جولائی کو رونما ہونے والے واقعہ کا بار بار بغور جائزہ لیا پولیس کی جانب سے درج آیف آئی آر کو بارہا پڑھا تو مزید دکھ کی کیفیت سے دوچار ہوا کہ ہم کس حد تک پستی میں جاچکے ہیں ۔ہر دولت مند شخص طاقت کے توازن کے پلڑے کو صرف اپنے حق میں ہی استعمال کرنا چاہتا ہے ۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں بھی ایک دولت مند باپ کے نوجوان برخوردار ولید ظہیر نے وہی حرکت کی جو اس سے قبل طاقت اور دولت کے نشے سے سرشار دیگر کرچکے تھے۔ فرق صرف یہ کہ اب کی بار بلال عباسی نامی نوجوان کی شاید زندگی کی کچھ سانسیں ابھی باقی تھیں۔ وہ ولید ظہیر کی بیہمانہ ظالمانہ کاروائی سے موت کے منہ میں جانے سے تو فی الحال بچ گیا مگر دوسری جانب موصوف ولید ظہیر نے جس طاقت کا عملی مظاہرہ کیا تھا وہ بھی ہمارے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے کہ تمام تر ثبوتوں کے باوجود اس عظیم نوجوان کا قانون کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ موصوف کے والد کے پاس بے تہاشہ دولت ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنی میں اہم عہدے پر تعینات رہے ہیں ۔تعلقات کا استعمال کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ ان کے ہونہار برخوردار کے خلاف پولیس نے دفعہ 324 کے تحت جو آیف آئی آر کاٹی ہے اس کی قانونی حیثیت صرف ایک صفحے سے زیادہ نہیں ۔جو پہلے ہی سیاہی سے کالا ہوچکا ہے ۔طاقت کے عدم توازن کی اس سے زیادہ خوبصورت مثال ہمارے معاشرے میں اور کیا ملے گی۔ جہاں معمولی تلخ کلامی پر نہ صرف سرعام فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو زخمی کیا گیا‘اسی پر بس نہیں کیا بلکہ دولت اور اختیارات کے نشے میں بدمست ہاتھی کی مانند ولید ظہیر نے بلال عباسی پر گاڑی بھی چڑھا دی کیونکر اسے یقین کامل تھا کہ دو ٹکے کا پاکستانی قانون اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔موقع پر صرف پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج ایک دفتری خانہ پری اور بس دوسری جانب بلال عباسی اور اس کے اہلہ خانہ غم کی کیفیت میں ہیں۔ انہیں بھی ولید ظہیر کی طرح یہ یقین کامل ہے کہ رہتی دنیا تک انصاف ان سے دور رہے گا کیونکہ جس طرح کی دولت اور طاقت کشمالہ طارق ، نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر اور بلال عباسی کے مجرم ولید ظہور کے پاس ہے ۔ان کا اس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ لہذا یہاں کام صرف صبر سے ہی لینا ہے کیونکہ رہتی دنیا تک نام ہے ہمارے ہاں صرف دولت اور طاقت کے استعمال کا جو صرف ولید ظہیر اور ظاہر جعفر جیسے معزز ہی استعمال کرسکتے ہیں ۔



  تازہ ترین   
پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد میں ملاقات کریں گے
ایران کے راستے برآمدات: بینک گارنٹی اور کریڈٹ لیٹر کی شرط عارضی معطل
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے
ٹرمپ کی دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق
وزیراعظم اور صدرِ ایران کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
پاکستان اور چین کا خطے میں امن اور سفارتی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
دونوں ممالک میں بات چیت کا عمل جاری، ایران ڈیل چاہتا ہے: امریکی صدر
ایران جنگ رکوانے کا مشن، اسلام آباد میں 29، 30 مارچ کو 4 فریقی اجلاس ہوگا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر