شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر چند روز علالت کے بعد ستاسی برس کی عمر میں انتقال کرگئے

کراچی (نیشنل ٹائمز) وفاق المدارس العربیہ کے میڈیا کوارڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی اور عبقری شخصیت تھے،آپ کے انتقال کی خبر سے پوری دنیا میں آپ کے لاکھوں شاگردوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔گزشتہ تقریبا بارہ روز سے انڈس ھسپتال میں زیر علاج تھے،سانس کی تکلیف پہ آپ کا علاج جاری تھا،تقریبا چھ روز قبل طبعیت زیادہ ناساز ھونے کی وجہ سے وینٹی لیٹر پہ منتقل کیا گیا لیکن صحت میں بہتری کے بجائے امراض کی شدت میں اضافہ ھوتا گیا۔آج صبح سے آپ کو سانس کے ساتھ دل کی تکلیف بھی زیادہ ہوگئی اور حرکت قلب بند ھو جانے سے آپ نے جان جان آفرین سپرد کردی۔مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق آپ کی پیدائش 1935ء میں ضلع ایبٹ آباد کے گاؤں کوکل میں مرحوم سکندر خان کے گھر میں ھوئی،آپ کے والد نیک سیرت اور علاقہ بھر میں عوام کی سماجی خدمت کے حوالہ سے معروف تھے۔مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مرحوم نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم اور میٹرک تک عصری علوم و فنون گاؤں میں حاصل کیے۔ اس کے بعد ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف میں دو سال، اور احمد المدارس سکندر پور میں دو سال پڑھا۔ 1952ء میں مفتئِ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے مدرسہ دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں درجہ رابعہ سے درجہ سادسہ تک تعلیم حاصل کی ، درجہ سابعہ و دورۂ حدیث کے لیے محدّث العصر علامہ سید محمّد یوسف بَنُوری کے مدرسہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا، اور 1956ء میں سند فراغ حاصل کی ،واضح رہے کہ اس مدرسہ میں درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم آپ ہی تھے اس کے بعد آپ نے 1962ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منوّرہ میں داخلہ لے کر چار سال علومِ نبویہ حاصل کیے۔ بعد ازاں جامعہ ازہر مصر میں 1972ء میں داخلہ لیا، اور چار سال میں دکتورہ (پی ایچ ڈی) مکمل کیا جس میں “عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہ العراقی” کے عنوان سے مقالہ بھی لکھا۔آپ کے اساتذہ کرام میں علامہ سیّد محمّد یوسف بَنُوری،مولانا عبدالحق نافع کاکاخیل،مولانا عبدالرّشید نعمانی،مولانا لطفُ اللہ پشاوری،مولانا سَحبان محمود،مفتی ولی حَسن ٹونکی، مولانا بدیع الزّمان جیسی عظیم علمی ھستیاں شامل تھیں۔تعلیم سے فراغت کے بعد ابتداء میں دارالعلوم نانک واڑہ میں دورانِ تعلیم ہی عمدہ استعداد و صلاحیت کی بناء پر کراچی میں لیبیا و مصر کی حکومتوں کے تعاون سے عربی زبان سکھانے کے لیے مختلف مقامات پر ہونے والی تربیتی نشستوں میں پڑھانے کا موقع ملا، اس سے آپ کو تدریس کا کافی تجربہ حاصل ہوگیا اور اسی حوالہ سے 1955ء ھی میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی اس وقت کی مسجد میں بھی آپ نے تدریس فرمائی،اور پھر بعد میں باقاعدہ تدریس کا آغاز بھی جامعہ بَنُوری ٹاؤن میں ھی کیا،حضرت بَنُوری رح نے آپ کی صلاحیتوں کو جانچتے ہوئے اپنے مدرسہ کا استاذ مقرر فرمایا،آپ کا زمانۂِ تدریس 1955ء سے آج 2021ء میں اختتام پزیر ھوا۔ظاہری علوم کی تکمیل کے علاوہ آپ کی باطنی تربیت میں بھی شیخ بَنُوری کا سب سے زیادہ حصہ تھا۔ علاوہ ازیں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمّد زکریا کاندہلوی اور حضرت ڈاکٹر عبدالحئ عارفی کی صحبت سے مستفید ہوئے، اور حضرت مولانا محمّد یوسف لدھیانوی شہید اور حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہما اللہ تعالیٰ سے اجازتِ بیعت و خلافت حاصل ہوئی،1977ء میں انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں آپ کو جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں ناظمِ تعلیمات مقرر کیا گیا، 1997ء میں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی شہادت کے بعد رئیس الجامعۃ کے لیے آپ کا انتخاب ہوا اور 2004ء میں مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی شہادت کے بعد شیخ الحدیث کے مسند نشین بنے،یہ دونوں مناصب تادم زیست آپ کے سپرد رھے۔1981ء میں آپ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کا رکن منتخب کیا گیا، 2008ء میں عالمی مجلس کے امیر حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی کے انتقال کے بعد آپ نائب امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔،پھر 2015ء میں اس وقت کے امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے انتقال کے بعد آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ منتخب ہوئے۔ پاکستان میں مدارس دینیہ کے سب سے بڑے نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ ہے جس کے تحت اس وقت تئیس ھزار سے زائد مدارس و جامعات ملحق ہیں،جس میں پچیس لاکھ سے زائد طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں،ڈیڑھ لاکھ سے زائد علماء وعملہ اس سے منسلک ہے،1997ء میں جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی شہادت کے بعد وفاق المدارس کی مجلسِ عاملہ کے رُکن بنائے گئے اور پھر 2001ء میں آپ نائب صدر مقرر ہوئے، اس دوران آپ صدرِ وفاق شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کی بیماری و ضعف کے باعث کئی بار اُن کی نیابت بھی کرتے رہے، اور اُن کی وفات کے نو ماہ بعد 14 محرّم الحرام 1439ھ موافق 05 اکتوبر 2017ء کو آپ وفاق المدارس کی مرکزی مجلس عمومی نے متفقہ طور پر مستقل صدر منتخب کیا اس کے علاوہ آپ وفاق کی نصاب کمیٹی اور امتحای کمیٹی کے سربراہ بھی رھے۔ آپ بلند پایہ مصنف بھی تھے،کئی بہترین عربی اور اردو میں آپ کی تصانیف مقبول عام رہیں جس میں بعض درسی کتب اور تراجم بھی شامل ہیں ان تصانیف میں الطریقۃ العصریی،کیف تعلم اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بھا،القاموس الصغیر، مؤقف الامۃ الاسلامیۃ من القادیانیۃ،تدوین الحدیث،اختلاف الامۃ والصراط المستقیم، جماعۃ التبلیغ و منھجہا فی الدعوۃ، ھل الذکریۃ مسلمون؟۔۔۔ الفرق بین القادیانیین و بین سائر الکفار، الاسلام و اعداد الشباب،تبلیغی جماعت اور اس کا طریقۂِ کار، چند اہم اسلامی آداب، محبّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت علی اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین سمیت دیگر مضامین وکتب قابل ذکر ہیں۔آپ کی زیادہ تر تصانیف اردو سے عربی، اور کچھ عربی سے اردو میں مترجَم ہیں جبکہ ان میں “الطریقۃ العصریۃ” عرصہ دراز سے وفاق المدارس کے نصاب میں بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں آپ نے عربی و اردو میں بےشمار مقالات و مضامین سُپردِ قلم فرمائے ہیں، جو عربی و اردو مجلّات، رسائل و جرائد، اور اخبارات کی زینت بنے اور مختلف کانفرنسوں میں پڑھے گئے ہیں۔ اِن میں سے اردو مضامین تین مجموعوں کی شکل میں مرتَّب ہوچکے ہیں۔۔۔۔”مشاہدات و تأثرات”….”اصلاحی گزارشات”اور “تحفظِ مدارس اور علما و طلبہ سے چند باتیں” بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ آپ روزنامہ “جنگ” کے مقبولِ عام سلسلہ “آپ کے مسائل اور اُن کا حل” کے مستقل کالم نگار بھی عرصہ سے رھے، جبکہ ماہ نامہ “بیّنات” کے مدیر مسؤل اور مجلّہ “البیّنات” کے مدیر بھی رھے۔مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق آپ کے انتقال سے اس وقت ساری دنیا کے علمی حلقے سوگ کی کیفیت سے دوچار ہیں،اس وقت جامعہ بنوری ٹاؤن میں ھزاروں افراد موجود ہیں،ملک بھر سے علماء ودینی قیادت کراچی پہنچ رھی ہے انہوں نے مزید کہا کہ وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری بھی ملتان میں عارضہ قلب کی وجہ سے علیل ہیں اور چار روز بعد آپ کو کل ھی گھر منتقل کیا گیا ہے،ملک بھر سے وفاق المدارس کے ذمہ داران ،ھزاروں مدارس وجامعات نے ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کے انتقال کو بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے مسلمانوں سے ان کی درجات کی بلندی کیلئے دعاؤں کے اھتمام کا کہا گیا ہے،جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی مجلس شوریٰ اور آپ کے خاندان کے افراد نے باھمی مشاورت کے بعد آپ کی نماز جنازہ رات دس بجے نماز عشاء کے بعد کا اعلان کیا ہے۔مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق آپ کے اھل خانہ میں بیوہ، دو فرزند مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر،مفتی محمد یوسف اسکندر اور تین صاحبزادیاں شامل ہیں،جبکہ لاکھوں آپ کے فیض یافتہ روحانی فرزند دنیا بھر میں موجود ہیں۔



  تازہ ترین   
ایران سے جنگ بندی برقرار، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج، تیل نہیں بیچ سکے گا: ٹرمپ
ٹرمپ دوبارہ جنگ نہیں کریں گے، اشتعال انگیز بیانات پسپائی کے عکاس ہیں: اکانومسٹ
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 5000 سے زائد پوائنٹس کی کمی
امریکا خود کو آقا سمجھنا چھوڑ دے تو معاہدے کی راہیں کھل سکتی ہیں: ایرانی صدر
آسٹریلیا کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کی کمان خاتون جنرل کے سپرد
نام نہاد ناکہ بندی کے بعد جلد آپ 4 سے 5 ڈالر والے پٹرول کو یاد کریں گے: ایران
اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا، امریکا کا سخت رویہ رکاوٹ بنا: عباس عراقچی
امید ہے امریکا، ایران امن کیلئے بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر