پشاور(نیشنل ٹائمز)پشاور یونیورسٹی میں ڈگریوں کے اجرا اور تصدیق کی مد میں جامعہ ملازمین کا برسوں سے حصہ لینے کا انکشاف ہوا ہے، نجی ٹی وی کے مطابق خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ پشاورطلبہ کو سالانہ 20ہزار سے زیادہ ٹرانسکرپٹ اور ڈگریاں جاری کرتی ہے،ڈگریوں، ٹرانسکرپٹ (مارکس شیٹ)کے اجرا اور ویری فکیشن کی فیسوں کی مد میں وصول کی جانے والی رقوم میں یونیورسٹی ملازمین کیلئے 8فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا،ملنے والی رقم میں کنٹرولر امتحانات کا 50فیصد ڈپٹی کنٹرولر کا 30فیصد جبکہ ویری فکیشن اسٹنٹ کا 20فیصد حصہ مقرر کیا گیا تھا،آن لائن فارن ویری فکیشن فیس میں کنٹرولر امتحانات اور رجسٹرار کا 40فیصد جبکہ ویری فکیشن اسسٹنٹ کا 20فیصد حصہ رکھا گیا تھا،یونیورسٹی آف پشاور میں قانون کی آڑ میں طلبہ سے لیے جانے والے کروڑوں روپے ملازمین کے ذاتی اکائونٹس میں گئے ،ویری فکیشن کی مد میں سالانہ 2 کروڑ روپے میں سے 16لاکھ جبکہ ڈگریوں کے اجرا کی مد میں سالانہ 3کروڑ 30لاکھ میں سے 26لاکھ سیکریسی اسٹاف نے وصول کیے،معاون خصوصی برائے اعلی تعلیم کامران خان بنگش نے فیسوں میں ملازمین کے حصوں سے متعلق یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جامعات میں کچھ لوگ مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں،حکومتی ہدایت کے بعد یونیورسٹی سینڈیکیٹ نے فیسوں کی مد میں وصول کی جانے والی حصہ داری کو ختم کر دیا ہے،سال 2012سے پہلے ڈگریوں کے اجرا اور ویری فکیشن کی مد میں فیسوں کی رقم میں 10 فیصد حصہ شعبہ امتحانات کے ملازمین وصول کرتے رہے تاہم بعد میں سینڈیکیٹ نے اس حصہ کو 8فیصد کردیا تھا۔
پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کا برسوں سے ڈگریوں کے اجرا اور تصدیق کیلئے کمیشن لینے کا انکشاف



