اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز میڈیکل سائنس کے فارغ التحصیل گریجویٹس نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھی ایم بی بی ایس کی طرح ایف ایس سی اور انٹری ٹیسٹ پاس کرتے ہیں اور میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں سے 4 یا 5 سال پر مشتمل ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز تقریباً 25+ سے زیادہ فیلڈز پر مشتمل ہیں۔ ہر سال 4000,5000 ہزار طالب علم ان اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کورونا کی وبائی حالت میں ڈاکٹروں اور نرسوں اور پیدا میڈیکس کے ساتھ ساتھ میڈیکل ٹیکنالوجسٹ بھی فرنٹ لائنر ہیں۔ انہوں نے ی9 باتیں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے دوران کہیں میڈیکل سٹوڈنس نے کہا کہ میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجسٹ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ میڈیکل ریڈیالوجی کے تکنیکی ماہرین کورونا وائرس کے مریضوں کی لا تعداد چیسٹ ایکسرے کر رہے ہیں۔ میڈیکل اینستھیزیا کے تکنیکی ماہرین وینٹی لیٹرز پر کورونا مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اس طرح میڈیکل ٹیکنالوجسٹوں کا ہر شعبہ اپنا کام انجام دے رہا ہے اور وہ فرنٹ لائنر ہیں۔ لیکن ہزاروں گریجویٹس بے روزگاری اور نوکری نہ ہونے کی وجہ سے بہت برے حالات میں نظر آرہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک مستند ڈگری حاصل کرنے اور مشق کرنے کے بعد پاکستان میں ان کو کوئی مقام نہیں دیا جا رہا۔ نہ تو انہیں ملازمت ملتی ہے اور نہ ہی ان کو باقاعدہ بنانے کے لیے کوئی کونسل جیسا ادارہ ہے جس کی وجہ سے انہیں عطائی کہا جا رہا ہے۔ ایم بی بی ایس کے پاس پی ایم ڈی سی کونسل ہے، نرسز کیلئے نرسنگ کونسل ہے، فارماسسٹ کے لیے فارمیسی کونسل۔ یہاں تک کہ حکما کے لیے بھی طب کونسل موجود ہے لیکن الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کو بغیر کسی رہنمائی کے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ابھی بھی پاکستان میڈیکل ٹیکنالوجسٹ کے پاس اپنے کورس کے نظم و نسق، اپنے پریکٹس کو منظم کرنے اور اپنے حقوق کی فراہمی کے لیے کونسل نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہزاروں افراد طبی تکنیکی ماہرین بے روزگار ہیں۔ وہ اپنی ڈگریوں اور تقدیر پر ماتم کر رہے ہیںکرونا پینڈامک 19میں ان ہیروز میں ڈاکٹر، نرسز کے ساتھ ساتھ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز بھی شامل تھے جنھوں نے کوڈ-19 ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ چیسٹ تھراپسٹ اور کوڈ-19 واڈ میں کرونا کے دنوں میں ٹیکنالوجسٹ ا فرنٹ لائن پر کرونا کے ٹیسٹ کر کے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سی دوسری بیماریوں کی بھی تشخیص نہیں کی جاسکتی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے متعلقہ صحت سے متعلقہ پیشہ ور افراد کو یکجا کرنااور ایک چھتری کے تحت متحد کرنا4/5 سال ڈگری ہولڈر کے لئے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل کا قیام تمام DHQS ، THQS ، RHC ، BHU اور تدریسی ہسپتالوں میں BPS 17 میں میڈیکل ٹیکنالوجسٹ نیوٹریسنسٹ اور تھیراپسٹ کے لئے نئی پوسٹس کی تشکیل۔میڈیکل ٹیکنولوجسٹ کی تمام قسموں کے لئے ٹیچنگ کیڈر کا قیام۔اور اس کے علاوہ انہوں نے حکومت سے مطالبات پیش کرتے ہو یہ بھی کہا کہ الائیڈ ہیلتھ سکیل 17 سے شکیل 21 تک پروفیشنلز کے لئے پوسٹوں کی تشکیل۔پاکستان بھر میں الائیڈ ہیلتھ سائنس ٹیکنالوجیز کا یکساں نصاب آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں بی پی ایس 17 سے بی پی ایس 20 تک میڈیکل کی یکساں خدمات کا ڈھانچہ۔تیار کیا جانا چاہئیے پاکستان اور بیرون ملک ایم فل کے لئے اعلٰی تعلیم کے لئے وظائف جاری کرنا۔ اور پی ایچ ڈی نجی شعبے میں میڈیکل ٹیکنولوجسٹ کی کم سے کم تنخواہ سکیل 17 کے مساوی ہونی چائیے جو دوسرے تمام تر فوائد اس کے ساتھ ہیں حکومت کی طرف سے چھ ماہ سے ایک سال تک لازمی طور پر وظیفہ کے ساتھ انٹرنشپ۔ کسی بھی تسلیم شدہ سرکاری اور نجی شعبے میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کی تعلیم پاکستان میں تمام اے ایچ ایس / اے ایچ پی کے لئے شروع کی جانی چاہئےاے ایچ پی کے تمام زمرے کے لیے اعلی قابلیت کے پروگرام متعارف کروائیں۔تعلیم یافتہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کیٹیگریز کے تمام ڈگری ہولڈرز کےلئےپرائیویٹ پریکٹساے ایچ ایس / اے ایچ پی کے ساتھ کام کرنے والے اداروں میں تربیت اور معیاری تعلیم کا قیام ضروری اقدام ہیں میڈیکل طلبہ نے کہا کہ پاکستان میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز پروگرام پیش کرنے والی یونیورسٹیوں کی فہرست یہ ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ، اسلام آباد شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آبادیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہورکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہورراولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ، راولپنڈیخیبر میڈیکل یونیورسٹی (کےایم یو) پشاورلیاقت نیشنل یونیورسٹی اے جے کے میڈیکل یونیورسٹینیز 180+ نجی یونیورسٹیوں اور انسٹی ٹیوٹ کے جو پاکستان میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز 25 سے زیادہ پروگرام کروا رہیں جس نے ہر سال دس سے پندرہ ھزار سٹوڈنٹس پاس ہوتے ہیں انہوں حکومت سے مطالب9 کیا ہے کہ فالتو ہمارے مستقبل کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں کونسل میں شامل۔کیا جائے ورنہ پورے پاکستان کے طلبہ۔پارلیمنٹ کے سامنے بھوک ہڑتال کا اعلان کریں گے۔
الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز 4 یا 5 سال کے عرصے میں میڈیکل کالجز سے ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود میڈیکل کونسل میں شامل نہیں کئے جاتے



