اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وزیر خزانہ شوکت فیاض ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب کے نئے ٹیکس اور ڈیڑھ سو ارب روپے کا انکم ٹیکس لگانے کا کہا میں نے اس کی مخالفت کی، سینیٹ کی سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا، 15 ملین لوگوںکو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، اشیائے خورد و نوش پر سیلز ٹیکس ختم کردیا ہے۔ جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2021-22کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ ایف بی آر کسیٹیکس نادہندہ کو گرفتار نہیں کرے گا بلکہ پہلے تھرڈ پارٹی کے ذریعے آڈٹہو گا پھر ضابطہ کی کارروائی کے بعد گرفتاری کا فیصلہ ہو گا۔ انہوں نیکہا کہ سینیٹ کی سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف نے 700 ارب کے نئے ٹیکس اور ڈیڑھ سو ارب روپے کا انکمٹیکس لگانے کا کہا میں نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکس نیٹکے دائرہ کار کو بڑھائیںگے جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس نیٹ کیدائرہ کار میں لائیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ ہیں جو ٹیکس دینے کیاہل ہو سکتے ہیں لیکن وہ ٹیکس نہیں دیتے، ایسے 15 ملین لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا، اشیائے خورد و نوش پر سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے، اگرپیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے تو دیکھیں گے کہ مشینری پر ٹیکسز پر کیوں لگارہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے 700 ارب کے نئے ٹیکس اور ڈیڑھ سو ارب روپے کا انکم ٹیکس لگانے کا کہا وزیر خزانہ



