اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی دارالحکومت میں مسجد کے لئے مختص زمین پر قبضہ کرنیوالے لینڈ مافیا کیخلاف تحقیقات کرنے پر غنڈوں نے ڈپٹی کمشنر آفس پر دھاوا بول دیا ۔ ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کو دھمکا کر اپنی مرضی کی انکوائری رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس کی بھاری نفری دیکھ کر غنڈے تتربتر ہو گئے ۔معاملہ چیف کمشنر اور وزیرداخلہ تک پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو لینڈ مافیا کے کارندے اس وقت آپے سے باہر ہو گئے جب انہوں نے مسجد کی زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ڈی سی آفس کا گھیراؤ کیا اور ڈی سی کو دھمکی دی کہ ہمارے حق میں انکوائری رپورٹ نہ ہوئی تو خطرناک نتائج ہوں گے اس پر ڈی سی آفس نے پولیس کو اطلاع دی تو لینڈ مافیا کے کارندے نو دو گیارہ ہو گئے ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے سی بی آر فیز ون کے رہائشیوں کی درخواست پر اسے سی رورل ذخرف کو انکوائری کی ہدایت کی تھی کیونکہ سوسائٹی کے میکنوں کا الزام تھا کہ سوسائٹی کے صدارتی امیدوار اشتیاق بٹ نے خیانت مجرمانہ کرتے ہوئے مسجد کے لئے مختص زمین پر بلڈنگ بنا کر الہدیٰ مدرسہ کو پونے چھ لاکھ روپے کرایے پر دے رکھا ہے اے سی رورل ذخرف نے ایک ہفتہ انکوائری کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سوسائٹی کے رہائشیوں کا الزام درست ہے اور سوسائٹی کی ملکیتی زمین پر اشتیاق بٹ نے قبضہ کرکے بلڈنگ بنا رکھی ہے اور ماہانہ کرایہ بھی وصول کررہے ہیں جبکہ یہ جگہ مسجد کے لئے مختص تھی ۔لہذا یہ زمین بھی واہ گزار کروائی جائے اور وصول شدہ کرایہ بھی واپس لیا جائے ۔ دوسری طرف اشتیاق بٹ کا موقف تھا کہ یہ زمین مجھے ملک باری نے گفٹ کی تھی مگر مکینوں کا موقف تھا کہ یہ زمین ملک باری نے مسجد کے لئے دی تھی تاہم اشتیاق بٹ خود کوزمین کے حقیقی مالک ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔جس کے بعد بدنام زمانہ اشتیاق بٹ ڈیٹی کمشنر اسلام آباد کے پاس پہنچ کر موقف اختیار کیا کہ ہمیں سمن ہی جاری نہیں کیا گیا۔ جس پر ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ آپ کے بندے تو انکوائری میں پیش ہوئے جنہیں جواب دعویٰ جمع کرانے کا کہا گیا تھا جس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے انہیں دربارہ انکوائری میں پیش ہونے کی ہدایت دی تاہم دوسری انکوائری میں بھی اشتیاق بٹ کوئی بھی ثبوت پیش نہ کرسکا اور اے سی رورل کیپٹن ذخرف نے ہفتہ لگاکر مسجد کے پلاٹ پہ قبضہ کی انکوائری کی اور قبضہ مافیا اشتیاق بٹ کو ایک مرتبہ پھر بے نقاب کردیا اور ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف فیصلہ آگیا جس پر انہوں نے ڈایریکٹر جنرل آئی سی ٹی سیدہ شفق ہاشمی سے سٹے آرڈر لینے کی بھر پور کوشش کی جنہوں نے میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے انہیں پیغام دیا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کو آج سن سکتی ہوں بلکہ یہ کوئی انکوائری کا فیصلہ نہیں بلکہ فائیڈنگ ہے جس پر فیصلہ آچکا ہے جس کے بعد شام کو پہلے اشتیاق بٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے اپنے ساتھیوں سمیت ملاقات کی اور انہیں ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور اپنے خلاف فیصلہ آنے پر حواس باختہ ہوکر بدتمیزی شروع کردی جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری ایس ہی آپریشنز کو آگاہ کیا جنہوں نے فوری پولیس کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی۔ اشتیاق بٹ کو جب معلوم ہوا کہ آپ گرفتاری سے بچنا ناممکن ہے تو انہوں نے دوڑ لگا دی دوسری جانب ڈی سی حمزہ شفقات کا لینڈ مافیا کیخلاف سخت ایکشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ رورل ایریا میں لینڈ مافیا کیخلاف کارروائیوں اورگرفتاریوں پہ ڈی سی حمزہ شفقات کو پہلے بھی دھمکیاں دی گئیں ہیں۔
لینڈ مافیا کیخلاف تحقیقات کرنے پر غنڈوں نے ڈپٹی کمشنر آفس اسلام آباد پر دھاوا بول دیا



