تاثرات
مظہر طفیل
حال ہی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی جانب سے کراچی شاہرائے فیصل پر واقع ایک رہایشی عمارت نسلہ ٹاور کی غیر قانونی تعمیر سے متعلق جو فیصلہ صادر فرمایا گیا ہے بادی النظر میں اس سے اختلاف رائے اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ملک کی اعلی ترین عدالتوں کے معزز ججز کو اس بابت کوئی بات ناگوار گزرے تو کم ازکم توہین عدالت کی سزا بھگتنے کے لیے تو تیار رہنا ہی پڑے گا تو کیونکر اس سے ہٹ کرایک اور عوامی مسلے کی جانب ملک کی اعلی ترین عدلیہ کی توجہ مبذول کرانے کی حقیر سی جسارت کر لی جائے میری اپنی معزز عدلیہ کے ججز سے صرف ایک سادہ سی درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو عدلیہ اپنی مرضی اور نگرانی میں ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کو ایک بار چیک ضرور کرے خصوصی طور پر پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں کا خفیہ سروے کرایا جائے کہ اس وقت وہاں ڈاکٹرز کا مریضوں سے رویہ کیسا ہے ایمرجینسی وارڈز کے حالات کیسے ہیں اور وہاں ڈیوٹی پر متعین ڈاکٹرز کیسے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں سب کچھ اس خفیہ سروے میں سامنے ٓجائے گا اگر صرف لاہور کے جناح اسپتال کا ہی جائزہ لیا جائے تو وہاں کی ایمرجینسی وارڈز کی حالت دیکھ کر اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کا مریضوں کے لواحقین سے رویہ جبکہ ان میں سے بیشتر ڈاکٹرز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے بھی مکمل ٓگاہی لینا ضروری ہے ایمرجینسی وارڈزکا جائزہ لیا جائے تو وہاں تمام شعبوں کے ڈاکٹرز کی موجودگی ضروری ہونی چاہیے مگر ایسا بالکل نہیں معاملات اس کے بالکل برعکس بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ڈیوٹی ڈاکٹرز مریضوں کو فوری طبعی امداد مہیا کرنے کی بجائے زیادہ وقت اپنے فونز پر وقت گزارتے دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ ایمرجینسی وارڈز میں اگر متعلقہ شعبے کا ڈیوٹی ڈاکٹر موجود نہ ہو تو مریضوں کے لواحقین کو وقت گزاری کے لیے یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے متعلقہ داکٹرز کو سلپ کال بھجواتے ہیں جب مریضوں کے لواحقین متعلقہ ڈاکٹرز کو فون کرکے بلوانے کا کیہں تو ایمرجینسی میں موجود ڈاکٹرز صاف طور پر فون کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے پاس دوسرے شعبے کا رابطہ نمبر نہیں اللہ معافی یہ ہمارے سرکاری اسپتالوں کا حال ہے کہ ڈاکٹرز فون پر مصروف جبکہ مریض اور ان کے لواحقین جس اذیت کا شکار ہوتے ہیں وہاں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں کیونکہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار جسے نہ تو کوئی انتظامی تجربہ ہے اور نہ ہی اس نالائق شخص کو صوبہ کے عوام کی کوئی پرواہ اسے تو صرف محکمہ پولیس میں نچلے درجے کے ملازمین کے تبادلوں سے غرض ہے جس سے بزدار خاندان کی روٹی روزی چل رہی ہے ملک کے اتنے بڑے صوبے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے صرف لاہور شہر کی سڑکوں اور گلیوں کا اگر ایک دورہ ملک کی اعلی ترین عدلیہ کے معزز ججز کرلیں اور ان شاہراہوں اور گلیوں میں صرف چند سیکنڈ کے لیے کھڑے ہو کر کھلی فضا میں سانس لیں تو انہیں خود بخود اندازہ ہوجائے گا کہ صرف تین سالوں میں صوبہ پنجاب کی حالت کیا کردی گی ہے حکومتی کرپشن کی داستانیں اب تو ہر زدو عام ہیں مگر کسی کی کسی جانب کوئی شنوائی نہیں ہورہی اس کا ذمہ دار کون ہے اس سوال کا جواب ہر شہری جاننے کا حق رکھتا ہے مگر جواب دینے والوں کو اس کا شعور نہیں ، میں ایک ناقد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے معزز ججز کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں خدا را اس مسلے کی سنگینی کا خود جائزہ لیں کل کو کسی کا بھی پیارا ڈاکٹرز کی عدم توجگہی کے باعث اپنی قیمتی جان سے جاسکتا ہے یہ وقت کسی پر بھی ٓسکتا ہے قانون نے چونکہ عدلیہ کو یہ اختیار اور طاقت دی ہے کہ وہ اس عوامی مسلے پر ایک ایسا حکم نامہ تو جاری کردیں کہ دوران ڈیوٹی ڈاکٹرزموبائل فون کا استعمال نہ کریں جبکہ ایمرجینسی وارڈز میں تمام متعلقہ شعبوں کے ڈاکٹرز کی موجودگی کو ہمہ وقت یقینی بنایا جائے ، یہ کام تو ویسے ریاست کے کرنے کے ہیں مگر جب حکمرانوں میں بے حسی بڑھ جائے صرف پیسے کی حوس اور اقتدار کے مزے لوٹنا ہی ان کا اولین مقصد ہو تو پھر مجبورا ریاستی اداروں کو اپنے کردار ادا کرنا پڑتا ہے جیسے سپریم کورٹ کے معزز ججز نے کراچی نسلہ ٹاور کی غیر قانونی تعمیر سے متعلق سپیڈی جسٹس کا مظاہرہ کیا ایسے ہی اگر ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں خصوصی طور پر پنجاب کے اسپتالوں میں یہ عدالتی حکم نامہ صادر فرمادیں تو یہ غلام قوم پر ان کا احسان عظیم ہو گا ، اللہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کو ہدایت نصیب فرمائے اور بے بس اور بے کس عوام کو عظیم صبرو جمیل عطا کرے ، ٓمین
ہسپتالوں کی حالت زار کیا اعلی عدلیہ اس کا بھی نوٹس لے گی ؟



