اسلام آباد( نیشنل ٹائمز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے دودھ ،دہی اور مکھن پر ٹیکس لگانے کی تجویز پر نظر ثانی کی سفارش کردی جبکہ بچوں کے درآمدی دودھ پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی،کمیٹی نے جیولری پر 17فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا معاملہ (آج) دوبارہ زیر غور لانے کا فیصلہ کیا ہے ،اپوزیشن ارکان کمیٹی نے ریمارکس دیئے کہ حکومت ہر چیز مہنگی کرتی جا رہی ہے ، کوئی غیر ضروری ٹیکس نہ لگائیں۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں فنانس بل کا جائزہ لیا گیا،ایف بی آر حکام نے کہا کہ فاٹا کو 2023تک سیلز ٹیکس سے استثنی حاصل ہے،ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ امپورٹڈ چوڑیوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں، کمیٹی ارکان نے بچوں کے درآمدی دودھ پر سیلز ٹیکس عائد کرنے پر اعتراض اٹھا یا ،رکن کمیٹی کامل علی آغا نے کہا کہ بچوں کے دودھ پر نہ ٹیکس لگائیں ، کمیٹی نے بچوں کے درآمدی دودھ پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی، کمیٹی ارکان کی اکثریت نے انرجی سیور پر سیلز ٹیکس لگانے کی بھی مخالفت کی، اپوزیشن ارکان کمیٹی نے جہازوں پر سیلز ٹیکس لگانے کی بھی مخالفت کی ، رکن کمیٹی سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ہر چیز آپ مہنگی کرتے جا رہے ہیںچیئرمین کمیٹی نے کہا اس وقت بہت ساری ایئرلائن بند ہوئی ہیں، رکن کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ کوئی غیر ضروری ٹیکس نہ لگائیں، اجلاس کے دوران اسلام آباد جیولرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی شریک ہوئے اور انہوں نے کہا کہ17فیصد سیلز ٹیکس انڈسٹری پر لگایا جارہاہے ، اس انڈسٹری کے ساتھ چھوٹے چھوٹے کاریگر ہیں، جو ٹیکس لگنے سے برباد ہو جائیں گے ،کمیٹی نے جیولری پر 17فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا معاملے کو (آج) تک موخر کردیا،اجلاس میں دودھ ، دہی اور مکھن پر ٹیکس لگانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا ، رکن کمیٹی سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ دہی اور مکھن پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے ، کمیٹی ارکان کی اکثریت نے دوددھ ، دہی اور مکھن پر ٹیکس لگانے کی مخالفت کی جس کے بعد کمیٹی نے دودھ ،دہی اور مکھن پر ٹیکس لگانے کی تجویز پر نظر ثانی کی سفارش کردی، رکن کمیٹی سعدیہ عباسی نے کہا کہ میں عام آدمی کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس میں اضافے کی مخالفت کرتی ہوں۔
قائمہ کمیٹی خزانہ نے دودھ ،دہی اور مکھن پر ٹیکس کی تجویز پر نظر ثانی کی سفارش کردی



